انوارالعلوم (جلد 16) — Page 262
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور تو جب بھی کسی ملک میں کوئی نیا بادشاہ آئے گا تو وہ پرانے جیسا معاملہ اہلِ ملک کے ساتھ نہیں کرسکتا۔نئے بادشاہ جب کسی ملک میں آتے ہیں تو بہت سے انقلابات ان کے ساتھ آتے ہیں۔کئی امرا، غریب اور کئی غریب، امیر ہو جاتے ہیں۔پس یہ حکمت انگریزوں کی مدد کی ہے اور یہ بہت اہم حکمت ہے اس لئے انگریزوں کی مدد کرنی ضروری ہے۔جس کا پہلا ذریعہ جیسا کہ میں نے بتایا ریکروٹنگ ہے۔ریکروٹنگ سے ہمارے اپنے اندر بھی فوجی سپرٹ قائم ہوتی ہے۔جس قوم میں فوجی سپرٹ نہ ہو وہ بُزدل ہو جاتی ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی کشمیری قوم جو آج اتنی بزدل سمجھی جاتی ہے ایک وقت اس کی یہ حالت تھی کہ محمود نے جتنے حملے ہندوستان پر کئے ان میں سے صرف دو میں اسے شکست ہوئی اور یہ دو حملے وہی تھے جو اس نے کشمیر پر کئے۔کسی وقت وہ اتنی بہادر قوم تھی لیکن آج یہ حالت ہے کہ مجھے یاد ہے بچپن میں میں ایک دفعہ کشمیر گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک پنڈت پچاس ساٹھ کشمیریوں کو گالیاں دے رہا اور ٹھنڈے مار رہا تھا اور وہ آگے سے ہاتھ جوڑ رہے اور منتیں کر رہے تھے۔ایک زمانہ میں راولپنڈی تک اور صوبہ سرحد کے کئی اضلاع تک ان کی حکومت تھی، تبت میں بھی ان کی حکومت تھی مگر جب ان میں فوجی سپرٹ نہ رہی تو وہ بزدل ہو گئے۔اللہ تعالیٰ حاکم قوموں پر اس لئے مصیبت لاتا ہے تا محکوم قوموں میں فوجی سپرٹ پیدا ہو وہ ضرورت کے وقت مجبور ہو کر ان کو بھرتی کرتی ہیں۔پس یہ ایک ترقی کا راستہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کھولا ہے اور ہمیں اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور فوجی ٹرینینگ حاصل کرنی چاہئے۔دوسری بات غلط افواہوں کا مقابلہ کرنا ہے یہ بہت اہم بات ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ غلط افواہیں بُزدل بنا دیتی ہیں۔لوگ عام طور پر خطرہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا خطرے کی آواز سے ڈرتے ہیں۔خود ہمارے ساتھ ایک دفعہ ایک واقعہ پیش آیا۔ہم ڈلہوزی میں سیر کرنے جا رہے تھے شام کا وقت تھا دو دو کر کے ہم چلے جا رہے تھے کہ پچھلوں کی آواز آئی سانپ اور اس سے بچنے کے لئے ہم سے جو آگے تھے انہوں نے چھلانگ ماردی۔انہیں میں سے ایک کی ٹانگوں کے درمیان سے سانپ گزر رہا تھا ان کے پیچھے ہم تھے ہم نے بھی اپنے دوستوں کو خطرہ میں دیکھ کر ان کے پیچھے دوڑنا شروع کیا۔اگلے دوست جن کے پاؤں میں سے سانپ گزرا تھا اس طرح گود گود کر دوڑ رہے تھے کہ ہر قدم پر ایک نیا سانپ ان کے راستہ میں آجاتا تھا۔پیچھے ہم ان کی مدد کو جا رہے تھے مگر چند گز کے بعد یکدم میں نے دیکھا تو میں اور سید ولی اللہ شاہ جو دوسری قطار