انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 239

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ بن گئے تو جو فی الواقع بڑے ہیں انہیں کچھ اور بڑھا کر دکھانا چاہئے لیکن یہ طریق غلط ہے۔جاہل، پاگل ہوں تو ان کا یہی کام ہے عالم پاگل کیوں بنیں اور اپنے بزرگوں کو وہ خطاب دے کر جن کے وہ مستحق نہیں کیوں ان کی اور ان کے بزرگوں کی ہتک کریں۔جن لوگوں میں حقیقی فضیلت پائی جاتی ہے انہیں جھوٹی فضیلت دینے کی ضرورت ہی کیا۔چاندی اور پیتل کو ملمع کی ضرورت ہے، سونے کو ملمع کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 66 غرض یہ اس اصطلاح کا غلط استعمال ہے اور حضرت خلیفہ اول کے لئے اس کا استعمال آپ کی ہتک ہے۔کیا یہ آپ کی تعریف ہے یا وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آپ اس طرح میری اطاعت کرتے ہیں جس طرح نبض دل کی اطاعت کرتی ہے۔ہے اور اس سے بہتر تعریف آپ کی کیا ہوسکتی ہے۔پس اعظم کے لفظ کے استعمال سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی ہتک ہوتی ہے اور حضرت خلیفہ اول کی بھی کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ اپنی تعریف کرانے کے لئے ایک مرتد کے خطاب کے محتاج تھے۔دراصل آپ کی تعریف اعظم“ کہلانے میں نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خادم ہونے میں ہے۔پس آپ کو اعظم کہنا آپ کی ہتک ہے کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ جس چیز میں اپنی عزت سمجھتے تھے۔اس سے آپ کو باہر کیا جائے اور جسے ذلّت سمجھتے تھے وہ آپ کی طرف منسوب کی جائے۔۳۔کتاب ”سیر روحانی، اس کے بعد میں دوستوں کو کتاب ”سیر روحانی“ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔یہ وہ تقریر ہے جو میں نے ۱۹۳۸ء کے سالانہ جلسہ پر کی تھی۔یہ کتاب جلسہ کے دنوں میں نہ چھپی تھی اس لئے دوستوں نے زیادہ توجہ نہ کی یہ کتاب صرف دو ہزار چھپوائی گئی تھی مگر ابھی سات سو پکی ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کافی ہے۔آج ہی یہاں ۲۳ ہزار افراد کو کھانا تقسیم ہوا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر بچوں اور عورتوں کو نکال دیا جائے تو بھی کم سے کم بارہ تیرہ ہزار مرد ہوں گے مگر اس کتاب کے دو ہزار میں سے ابھی سات سو نسخے پکے ہیں حالانکہ یہ چھوٹی کتاب ہے۔جو لیکچر سنا جائے اس سے پوری طرح فائدہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اسے دوبارہ پڑھا جائے۔پھر یہ سلسلہ کا مال تھا اس واسطے بھی اسے خریدنا چاہئے تھا۔یوں تو دوست شکایت کرتے ہیں کہ تقریریں چھپتی نہیں ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ جب پہلی چھپوائی ہوئی کتاب فروخت نہ ہو تو دوسری کیسے چھپوائی جاسکتی ہے۔ان کی اشاعت پر سلسلہ کا