انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 218

انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۱ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۱ء فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۱ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ہم آج یہاں ظاہر میں اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ہم سب کی ظاہری شکل یہی ہے میری بھی اور آپ کی بھی یعنی آپ میں سے ہر فرد کی مگر اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہر شخص کے دل کی کیا کیفیت ہے۔شاید ہم اس کیفیت کو خود بھی نہ سمجھتے ہوں۔یا شاید بعض ہم میں سے اپنے دل کی قوت اور کمزوری کو ایک حد تک جانتے ہوں۔پس ہمارے لئے نہایت ہی خوف اور ڈر کا مقام ہے کہ اگر آج ہم لوگ اس جگہ لوگوں کو دکھانے کے لئے نہ کہ خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے دین کی خاطر جمع ہوئے ہیں اور ہمارے دل اس قسم کے جذبات سے خالی ہیں تو ہم خدا تعالیٰ کو بھی دھوکا دینے والے ہیں اور اس کے بندوں کو بھی۔اسی طرح اگر ہمارے واعظ اس لئے یہاں آئے ہیں کہ لوگوں پر اپنی لسانی کا رُعب ڈالیں اور ان پر اپنے علم کا اظہار کریں اور اگر سامعین اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ ان کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ جماعت کے مخلص فرد ہیں یا اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اچھی تقریروں کے سنے کا انہیں چسکہ پڑا ہوا ہے تو واعظ بھی یہاں سے گھاٹے میں جائے گا اور سامع بھی گھاٹے میں رہے گا لیکن میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ سے اس قسم کی غلطی ہو گئی ہے تو اب بھی اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اچھا کام بسم اللہ سے شروع کرنا چاہئے۔یعنی کسی کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کو درست کر کے صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہی کر لینی چاہئے۔پھر فرماتے ہیں اگر کوئی بھول جائے مثلا کھانا کھانے لگا ہے اُس وقت بِسمِ اللہ کہنا بھول جائے مگر