انوارالعلوم (جلد 16) — Page 209
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ خرچ کو مولوی صاحب کی خاطر برداشت کروں؟ ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگر جلسہ کے موقع پر ہی مولوی صاحب کو اپنے خیالات سنانے کا شوق ہو تو جلسہ کے دو دن اور بڑھا دوں مگر اس شرط پر کہ ان دنوں کی مہمان نوازی کا خرچ مولوی صاحب برداشت کریں جو اُن دنوں کے لحاظ سے اوسطاً تین ہزار روپیہ روزانہ ہوگا ۔ پس مولوی صاحب چھ ہزار روپیہ اس غرض سے ادا کر دیں تو میں جلسہ کے دنوں کے بعد دو دن ان کے لیکچروں کے لئے مقرر کر دوں گا۔ اور اعلان کر دوں گا کہ جو دوست جانے پر مجبور نہ ہوں دو دن اور ٹھہر جائیں اور مولوی صاحب کے خیالات سنتے جائیں ۔ اگر یہ نہیں تو میں یہ ہزاروں کا خرچ ان کے لئے برداشت کرنے پر تیار نہیں اور نہ جماعت جو لاکھ ڈیڑھ لاکھ خرچ کر کے قادیان آتی ہے اسے اس کی خواہش سے محروم کر سکتا ہوں ہاں میری دعوت جو قادیان میں لیکچر کے متعلق ہے جس میں مجھے کوئی خاص خرچ کرنا نہیں پڑتا۔ وہ موجود ہے اگر مولوی صاحب کو وہ منظور ہو تو بڑی خوشی سے تشریف لے آئیں ۔ وَ آخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد ( الفضل ۱۴ را گست ۱۹۴۱ء ) مولوی محمد علی صاحب کی تازہ چٹھی کا جواب اگر وہ جماعت احمد یہ قادیان کو قابلِ خطاب نہیں سمجھتے تو میں مولوی صاحب کو قابلِ خطاب نہیں سمجھتا مولوی محمد علی صاحب کی ایک دستخطی چٹھی میرے پاس پہنچی ہے۔ میں مولوی صاحب کے رفقاء کی تحریروں کے کے بعد جن میں حضرت مسح مسیح موعود موعود علیہ علیہ الصلوۃ الصلوٰۃ والسلام و کو معاویہ معاویہ کہا کہا گیا گیا اور مجھے یزید قرار دیا گیا ہے اور مولوی صاحب نے توجہ دلانے پر اپنے ساتھیوں کو نصیحت نہیں کی بلکہ الٹی اُن نے کی طرفداری کی ہے، اسی طرح بوجہ اس کے کہ مولوی صاحب نے قریب کے ایام میں ہی