انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 206

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔اگر الحکم کے حوالہ (۲۷ / اگست (۱۸۹۹ء کی وجہ سے باوجود فیصلہ کا تیسرا طریق لیکچر سیالکوٹ کے حوالہ کے اور الحکم کی ڈائری (۶ رمئی ۱۹۰۸ ء ) کے آپ کو ایسی تحریر پر دستخط کرنے پر اعتراض ہو تو میری تیسری تجویز یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ میں صرف خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق ، قران کریم کی اصطلاح کے مطابق ، سابق انبیاء کی اصطلاح کے مطابق اور اس حکم کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتا ہوں باقی اسلام کی اصطلاح کے رو سے میں آپ کو حقیقی نبی نہیں سمجھتا۔اس اصطلاح کے رو سے آپ کو صرف مجازی نبی یقین کرتا ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ ایسا اشتہار دیں گے تو اس سے بھی دنیا کو بہت کچھ اس مسئلہ کے سمجھنے میں سہولت ہو جائے گی۔فیصلہ کا چوتھا طریق یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ فیصلہ کا چوتھا طریق جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں قرآن کریم کی اصطلاح میں، اسلام کی اصطلاح میں، سابق انبیاء کی اصطلاح میں اور نبی کے لفظ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو حکم دیا تھا اس کے مطابق جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ نبی کی یہ تعریف ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاتا ہے وہ نبی ہے تو وہ غلطی خوردہ ہے اور اسلام کی تعلیم کے خلاف کہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان طریقوں میں سے آپ کسی طریق کو بھی اختیار کر لیں۔فیصلہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ - میں یہ مضمون قریباً ختم کر چکا تھا کہ جناب مولوی محمد علی صاحب مولوی صاحب کا نیا جواب کا ایک نیا مضمون مجھے ملا۔جو پیغام صلح ۸/اگست ۱۹۴۱ ء میں شائع ہوا ہے۔اس میں مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے میری وہ تجویز جو ان کی اور میری اُن تحریرات کو جو نبوت کے متعلق زمانہ مسیح موعود علیہ السلام کی ہیں اکٹھا شائع کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کے متعلق تھی قبول کر لیا ہوا ہے اور فرماتے ہیں :- میں نے ان کی اس تجویز کو مان لیا تھا کہ میرے عقائد جو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں تھے اور ان کے عقائد پر جو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں تھے بحث ہو جائے مگر اس شرط کے ساتھ کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے عقائد پر اس کے ساتھ ہی اسی طرح بحث ہو جائے مجھے یہ سمجھ نہیں آتی