انوارالعلوم (جلد 16) — Page 205
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے متعلق ہمارا مذہب وہی ہے جو اس اشتہار میں درج ہے۔تمام لوگ اسی کو ہمارا مذہب تصور فرمائیں اور اس کے خلاف اگر ہماری کوئی تحریر ہو تو اسے غلط سمجھیں۔اور ہم دونوں کی اس تحریر کے بعد ایک غلطی کا ازالہ اشتہار بغیر کسی حاشیہ کے شائع کر دیا جائے اور ہر سال کم سے کم پچاس ہزار کا پی اس اشتہار کی ملک میں تقسیم کر دی جائے۔۲/۳ خرچ اِس کا ہم دیں گے اور سہرا اِس کا خرچ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء دیں۔اس کے بعد دونوں فریق کے لئے جائز نہ ہوگا کہ اپنی طرف سے کوئی اور مضمون اپنے اخباروں یا رسالوں یا ٹریکٹوں میں لکھیں بلکہ جو اس امر کے متعلق سوال کرے اسے اس اشتہار کی ایک کاپی دیدی جائے کیونکہ اس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غلطیوں کا ازالہ کر دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر پانچ سال تک بھی دونوں فریق اس کے کاربند رہیں تو نزاع بہت کچھ کم ہو جائے گا اور شاید اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ مزید صلح کے راستے کھول دے۔دوسرا طریق فیصلہ کا میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فیصلہ کا دوسرا طریق نے صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں (چشمہ معرفت ) قرآن کریم کی اصطلاح میں (ایک غلطی کا ازالہ)، اسلام کی اصطلاح میں ( لیکچر سیالکوٹ ، نیز الحکم ۶ رفروری ۱۹۰۸ء) ، سابق انبیاء کی اصطلاح میں (الوصیت صفحہ ۱۲ ) اور خدا تعالیٰ کے حکم سے میرے نزدیک ( تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۶۸) اور لغت کی اصطلاح میں ( مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء) نبی اسے کہتے ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں اور اس کو شرف مکالمہ ومخالبہ حاصل ہو۔اور یہ کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہیں اور کسی معنوں میں نہیں۔پس ایک اشتہار ہم دونوں کے دستخط سے ملک میں شائع کر دیا جائے کہ ہم دونوں فریق اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق ، قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق، اسلام کی اصطلاح کے مطابق ، سابق انبیاء کی اصطلاح کے مطابق، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا تھا اُس کے مطابق اور عربی اور عبرانی لغتوں کے مطابق نبی سمجھتے ہیں۔اس کے سوا کسی اور تعریف کے مطابق نبی نہیں سمجھتے بلکہ دوسری اصطلاحوں کے مطابق ہم صرف استعارہ آپ کے لئے نبی کے لفظ کا استعمال جائز سمجھتے ہیں حقیقی طور پر نہیں۔