انوارالعلوم (جلد 16) — Page 195
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ ہے کون کہہ سکتا ہے کہ اس میں نبی کے آنے کا انکار ہے اس میں تو صریح اقرار ہے۔باقی مولوی صاحب اس حوالہ کو بیسیوں چھوڑ ہزاروں دفعہ انکار کے ثبوت میں پیش کرتے جائیں تو ان کو روکنے والا کون ہے۔وہ اپنی اس حرکت کے خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونگے۔مولوی صاحب کے متعلق حضرت مسیح موعود اس کے بعد جناب مولوی محمد علی صاحب نے مجھے توجہ دلائی ہے کہ ان کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام کی میں غلط علیہ السلام کے الہام کی تشریح تشریح کر رہا ہوں۔وہ الہام یہ ہے۔آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے یہ تاویل کر کے کہ گویا میں (یعنی جناب مولوی صاحب ) صالح تھا اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دُور ہو گیا ہوں تاویل باطل کا ایک بے نظیر ثبوت دیا ہے۔حالانکہ اس کے اصل معنے یہ ہیں کہ میں آپ ہی کا کام آپ کے بعد کر رہا ہوں اس لئے جب میں فوت ہو جاؤں گا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ سے فرمائیں گے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے مگر لوگوں نے بدگمانی کی آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔وو پھر فرماتے ہیں۔میاں صاحب تو بال کی کھال اُتارنے میں ماہر ہیں۔“ ( کیا یہ اسلامی اخلاق کی مثال ہے جس کی طرف مولوی صاحب نے مضمون کے شروع میں دعوت دی ہے ) مگر الہام کے اس لفظ بھی“ پر کیوں غور نہیں کرتے اور کون صالح تھا اور نیک ارادہ رکھتا تھا کہ آپ کو یہ کہنا پڑا کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے وہی جو اپنے پاس بٹھاتا ہے۔مولوی صاحب کا یہ شکوہ درست نہیں۔” بھی" کے لفظ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے خوب غور کیا ہوا ہے اور با وجود اس کے ہم وہ معنے نہیں سمجھ سکتے جو مولوی صاحب کرتے ہیں۔” بھی بے شک ایک سے زیادہ وجودوں پر دلالت کرتا ہے لیکن اس لفظ کے معنے ایک وجود کے کرنے ضروری نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں وجود ” بھی“ کے لفظ میں آ سکتے ہیں۔پس ” بھی“ کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی الہام کے یہی معنے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ آپ کے بعد کے انشقاق کو دکھائے گا تو آپ بزبانِ حال فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری جماعت میں ہزاروں صالح اور نیک ارادہ رکھنے والے لوگ تھے ان میں سے آپ بھی ایک تھے۔پھر کیا وجہ ہے کہ جبکہ ان میں سے