انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 181

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ کا امتی ہوتے ہوئے ایک شخص نبی ہو سکتا ہے پھر امامُكُمُ مِنْكُمُ کی حدیث لکھنے سے میرا کونسا اعتراف ثابت ہوا جس پر وہ اس قدر خوش ہیں۔اگر یہ اعتراف ہے تو اس کے لئے انہیں میرے خطبہ ۶ / جون ۱۹۴۱ ء کے انتظار کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ میں تو شروع سے ہی یہ کہتا چلا آ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔یہ اعتراف تو ہوش سنبھالنے کے زمانہ سے ہے جس پر کوئی چالیس سال گزر چکے ہیں کوئی نیا اعتراف نہیں۔اگر اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے وہ ہمیں نبوت کے مسئلہ میں نئی بات پیدا کرنے والا نہیں سمجھتے تو اس قدرشور کس امر کا ہے۔مولوی صاحب موصوف کو یاد رہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ہو کر نبی بنے تھے اور ان ہی معنوں میں ہم آپ کو نبی اور رسول کہتے ہیں۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی آپ کا نام نبی رکھا گیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو مولوی صاحب فرمائیں کہ اسے کس نام سے پکارا جائے۔اگر وہ یہ فرمائیں کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہیں۔مگر نبوت کے معنے اظہار امر غیب کے ہیں۔اور پھر میں مولوی صاحب سے کہتا ہوں کہ نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس جب ہمارا یہ عقیدہ ہے تو اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ سے یہ اقبالی ڈگری کیونکر میرے خلاف جاری ہوگئی کہ چونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع مانتا ہوں اس لئے میں اقبال کرتا ہوں کہ آپ مجدد تھے نبی نہ تھے۔مولوی صاحب کو نہ معلوم میری تحریر میں سے صرف پانچ اقبالی ڈگریاں کیوں ملیں ایسی اقبالی ڈگریاں تو میری تصانیف میں سینکڑوں موجود ہوں گی۔۔پھر جناب مولوی صاحب ازالہ اوہام صفحہ ۵۹ کا یہ حوالہ مسیح موعود اپنے وقت کا مجدّد ہوگا پیش کرتے ہوئے مجھ پر لا علمی کا الزام رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہ تحریر فرماتے ہیں کہ ابتداء سے یہی مقرر ہے کہ مسیح اپنے وقت کا مجد د ہو گا ، پھر میں اِس کا انکار کیوں کر رہا ہوں۔یہ میری لا علمی کی دلیل نہیں بلکہ