انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 175

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ حقیقی نہ سمجھا جائے بلکہ استعارہ سمجھا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر نہیں کئے گئے بلکہ صرف استعارہ کہہ دیا گیا ہے کہ آپ کو امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع دی گئی ہے کیونکہ ان ہستیوں کے نزدیک نبی کی تعریف صرف یہ ہے کہ کسی ا کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے۔اور ایسا خیال کرنا کہ آپ کو اخبار غیبیہ فی الحقیقت کثرت سے نہیں دی گئیں بلکہ محض استعارہ ایسا کہ دیا گیا ہے بالبداہت غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام متواتر اس امر کا دعویٰ فرما چکے ہیں کہ مجھ پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے گئے ہیں بلکہ یہاں تک فرما چکے ہیں کہ :- ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“‘۵۴ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے بلکہ اس کثرت سے اطلاع دی گئی ہے کہ اگر اسے ہزار نبیوں پر تقسیم کر دیا جائے تو ہزار نبی کی نبوت بھی ثابت ہو جائے۔اسی طرح فرماتے ہیں:- اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں۔بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگویوں سے کچھ نسبت ہی نہیں۔۵۵۰ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اکثر انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں سے بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں عطا ہوئیں۔اور بعض سے تو اس قدر زیادہ یہ نعمت ملی ہے کہ ان نبیوں کی پیشگوئیوں اور معجزات کو آپ کی پیشگوئیوں اور معجزات