انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 158

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات و کنایات خیال کرتے تھے ، اسی طرح یہ کہ یقیناً سمجھو کہ اس حدیث اور ایسا ہی اس کی مثال کے ظاہری معنے ہرگز مراد نہیں اور قرائن قویہ ایک شمشیر برہنہ لے کر اس کو چہ کی طرف جانے سے روک رہے ہیں بلکہ یہ تمام حدیث ان مکاشفات کی قسم میں سے ہے جن کا لفظ لفظ تعبیر کے لائق ہوتا ہے۔۲۳ اور ان حوالوں سے نتیجہ نکالتے ہے۔“ ہیں کہ ”بات موٹی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اسے ساقط الاعتبار قرار دیا ہے اور تمام کی تمام حدیث کو مع اس حصہ کے جس میں مسیح ابن مریم کے نام کیساتھ نبی اللہ کا لفظ بولا گیا ہے صرف اس صورت میں قبول کیا ہے کہ اس کو استعارہ اور مجاز قرار دیا جائے۔پھر فرماتے ہیں کہ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ نبی والا حصہ اس سے متقی ہے کیونکہ اس حصہ کو خاص طور پر آپ نے استعارہ قرار دیا ہے اور اس کے لئے یہ حوالے درج کئے ہیں۔آ نے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالماتِ الہیہ کا ہے ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا، ۲۴۔وہ نبی کر کے پکارنا جو حد یثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔یہ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیونکر اور کیسا ہوا کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور۔۔تو بہ کرو اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔۲۵۷ مولوی صاحب ان حوالوں سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث کو ضعیف بلکہ ساقط الاعتبار قرار دیا ہے۔اور اسی صورت میں اس کو قابلِ اعتبار قرار دیا ہے کہ اسے استعارات سے پر سمجھا جائے۔پس میرا یہ کہنا کہ گو بعض لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن یہ قول ان کا درست نہیں گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو رد کرنا ہے مگر جو شخص بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اوپر کے حوالہ جات کو غور سے پڑھے گا اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ مولوی صاحب کا یہ بیان کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے