انوارالعلوم (جلد 16) — Page 151
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔بھی اس اصل کے مطابق ایسا نہ ملے گا جسے یقین کرنے کا حق حاصل ہو کہ وہ بچے مذہب پر ہے اور مزید تحقیق کی اسے ضرورت نہیں۔کیونکہ کوئی ایسا انسان نہیں ملے گا کہ جس نے دنیا کے سب مذاہب کا کما حقہ، مطالعہ کیا ہو بلکہ خود آپ بھی کہ جن کو اِس وقت اس قدر خدمت دینی کا دعوی ہے اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔تو کیا ہم یہ کہیں کہ آپ کا حق نہیں کہ اپنے مذہب کی سچائی پر مطمئن ہوں۔کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی ایسا مذ ہب بھی نکل آوے جس کے دلائل سے آپ آگاہ نہ ہوں اور وہ سچا ہو۔کیا سچے مذہب کے اندر کوئی ایسی صداقت موجود نہیں ہوتی کہ جو اپنی ذات کے اندر اپنی دلیل رکھتی ہو۔اگر ایسا ہے اور ضرور ہے تو پھر ایمان کے کمال کے لئے بھی ضروری نہیں کہ ہر ایک مخالف کی کتاب پہلے پڑھ لی جائے اگر آپ کو یہ شبہ پیدا ہو کہ اس طرح تو ہر ایک شخص یہ کہہ دے گا کہ مجھے ایسا کامل ایمان حاصل ہو چکا ہے کہ مجھے مزید غور کی ضرورت نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خود ایک دعویٰ ہوگا جو دلیل کا محتاج ہوگا۔اور اگر کوئی اپنے ایمان کو عینی ایمان ثابت کر دے گا تو پھر بے شک اس کا حق ہوگا کہ اس کا دعوی تسلیم کر لیا جاوے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ یہ استثناء صرف میرا ہی قائم کردہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بائبل پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس پر آپ کو ڈانٹا۔چنانچہ جابر سے روایت ہے۔اَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہے۔أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنَ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنَ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَ وَجُهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ تَكَلَتْكَ التَّوَاكِلُ مَاتَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلى وَجْهِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَ غَضَبٍ رَسُولِهِ - یعنی حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس ایک نسخہ