انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 147

انوار العلوم جلد ۱۶ ، اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔استدلال کی خوبی تو ظاہر ہی ہے۔پہلے ممبر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معاویہ بنا کر مجھے یزید ثابت کیا تھا۔دوسرے مبلغ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امام حسین ثابت کر کے مجھے یزید ثابت کرنے کی کوشش کی ہے گویا پہلا یزید بھی حضرت امام حسین کے بعد گزرا تھا اور ان کا بیٹا تھا۔حالانکہ اگر استدلال پر غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام امام حسین کے مثیل ثابت نہیں ہوتے بلکہ لاہور کے پاک ممبر جس سے مراد جناب مولوی محمد علی " صاحب ہیں کیونکہ وہی قادیان سے گئے ہیں مثیل امام حسین ثابت ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت جو ان مبلغ صاحب کو ہے وہ بھی ظاہر ہے اوپر کے حوالہ میں دو دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر آیا ہے اور دو دفعہ امام حسین کا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کے ساتھ ایک دفعہ بھی ”علیہ السلام“ کا لفظ نہیں لکھا۔مگر حضرت امام حسین کے نام کے ساتھ ایک دفعہ مفصل علیہ السلام لکھا ہے اور دوسری دفعہ ان کے نام کے اوپر جو علیہ السلام کا نشان ہے ڈالا ہے جن لوگوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ادب باقی رہ گیا ہے ان سے مجھے اور دوسرے احمدیوں کو کسی نیک سلوک کی کیا امید ہوسکتی ہے ،،، نُفَوِّضُ أَمْرَنَا إِلَى اللهِ هُوَ وَلِيُّنَا وَ حَافِظُنَا وَ نَاصِرُنَا عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ۔میں نے اپنے خطبہ میں کہا تھا کہ بعض لوگ ہر بات کا انکار کر دیتے ہیں ان کی مثال اس تماشہ کی سی ہے کہ بازی گر بعض دفعہ کرتب دکھاتے ہیں تو ان میں سے ایک کہہ دیتا ہے۔میں نہ مانوں۔مولوی صاحب اس پر بہت ناراض ہوئے ہیں حالانکہ یہ صرف انکار کرنے کی مثال ہے ور نہ اگر اس سے نٹوں سے مشابہت مراد ہو تو جیسا کہ خود مولوی صاحب نے تحریر فرمایا ہے بازی گر خود میں بنتا ہوں۔پس جبکہ اس مثال کو اگر بازی گروں سے مشابہت مانا جائے تو خود میں اپنے آپ کو بازی گر قرار دیتا ہوں۔تو یہ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اس مثال سے مراد اس طبقہ سے مشابہت دینا ہے بلکہ اس سے مراد تو صرف انکار پر اصرار کی ایک مثال دینا ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب نے خطبہ کے سالہا سال سے ایک غلط اعتراض کا تکرار مضمون کا جواب دینے کی طرف توجہ فرمائی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ میرے مضمون کو قارئین پیغام کے سامنے لانے کو تیار ہیں بشرطیکہ میں ان کے مضمون کو جس کا میں جواب لکھ رہا ہوں۔”الفضل“ میں شائع کرا دوں۔اس تجویز کو پیش کرنے کے بعد میرے جواب کا انتظار کئے بغیر مولوی صاحب یہ فیصلہ فرما دیتے ہیں کہ گویا میں