انوارالعلوم (جلد 16) — Page 135
انوار العلوم جلد ۱۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ تعالی ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت نے مسیح موعود کو رسول کہا ہے تحریر فرموده حضرت خلیفة المسیح الثانی) مولوی محمد علی صاحب نے میرے مولوی محمد علی صاحب میرے خطبہ کے جواب میں خطبہ مطبوعہ افضل ۱۸ جون ۱۹۴۱ء کے جواب میں ایک مضمون شائع کیا ہے میں نے اس کے ایک حصہ کا جواب اپنے ۲۴ / جولائی کے خطبہ میں دیتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ میں مولوی صاحب کے مضمون کا بقیہ حصص کا جواب اِنْشَاءَ اللہ الگ مضمون کی صورت میں دوں گا سو اس وعدہ کا ایفاء میں آج اس مضمون کے ذریعہ سے کرتا ہوں ۔ مولوی صاحب اپنے مضمون کے شروع میں رفاقت کہاں رہی اور فخر کس بات کا میرے خطبہ کے مطبوعہ عنوان کا ذکر کرتے ہوئے دو تحریر فرماتے ہیں کہ اس خطبہ کا عنوان ہے " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کے متعلق اللہ تعالی آنحضرت صلعم ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، خود مولوی محمد علی صاحب کی شہادت“ اور ” میں اس رفاقت پر جس قدر بھی فخر کروں بے جانہ ہوگا اے کاش ! مولوی صاحب سنجیدگی سے یہ فقرہ تحریر فرماتے: یر فرماتے تو ہمارے دل خوشی سے بھر جاتے اور پھر پرانے زمانہ کی رفاقت تازہ ہو جاتی مگر افسوس کہ انہوں نے صرف تمسخر کے طور پر یہ فقرہ تحریر فرمایا ہے ورنہ ان کا منشاء یہ