انوارالعلوم (جلد 16) — Page 128
انوار العلوم جلد ۱۶ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔وہیں بیٹھے رہتے۔تو گھوڑے کی سواری سے پہلے گدھے کی سواری بھی آنی چاہئے اور زمینداروں کے لئے اس میں کوئی دقت نہیں چھوٹے چھوٹے زمیندار لڑکے کھڑے ہوتے ہیں کہ پاس سے گدھا گزرتا ہے اس پر فوراً ایک ادھر سے پلا کی مار کر اُس پر بیٹھ جاتا ہے اور دوسرا اُدھر سے پلا کی مار کر اس پر چڑھ جاتا ہے اور تھوڑی دیر سواری کرنے کے بعد ہنستے ہوئے اُتر جاتے ہیں مگر شہر والوں کو یہ نعمتیں کہاں میسر ہیں وہ تو جب تک کا ٹھی نہ ہو اور سدھایا ہؤا گھوڑا نہ ہو اُس پر سوار ہی نہیں ہو سکتے۔بہر حال گھوڑے اور گدھے کی سواری بھی نہایت مفید چیزیں ہیں اسی طرح اور دیسی کھیلیں ہیں ان سے تمہارا جسم مضبوط ہوگا۔نوکری تمہیں آسانی سے مل سکے گی گھروں کی حفاظت کر سکو گے، کوئی ڈوب رہا ہو گا تو اُس کو نکال لو گے ، آگ لگی ہوئی ہوگی تو اُس کو بجھا سکو گے ، غرض یہ کھیل کی کھیل ہے اور کام کا کام کہتے ہیں ” ایک پنتھ دو کاج اس سے بھی دونوں فائدے حاصل و سکتے ہیں کھیلوں کا فائدہ بھی اور کاموں کا فائدہ بھی۔میں امید کرتا ہوں کہ باہر سے جو دوست آئے ہوئے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ صرف کھیلیں نہیں بلکہ ان میں کئی حکمتیں ہیں پس کھیلو اور خوب کھیلو اور مت سمجھو کہ یہ دنیا ہے۔جو باپ اپنے بچہ کو کھیلنے نہیں دیتا وہ یاد رکھے کہ جس بچے نے کھیل میں اپنے ہاتھ مضبوط نہ کئے وہ کھیتی باڑی بھی نہیں کر سکے گا وہ بل بھی نہیں چلا سکے گا اور وہ دنیا کے اور کاموں میں بھی حصہ نہیں لے سکے گا۔پس تم اپنے بچوں کو کھیلنے دو بلکہ اگر تمہارا کوئی بچہ نہیں کھیلتا تو اُسے مارو کہ تو کھیلتا کیوں نہیں ، گود نا پھاندنا، دوڑیں لگانا، تیرنا، گھوڑے اور گدھے کی سواری کرنا یہ بڑے مفید کام ہیں تم ان چیزوں کو سیکھو اور سکھاؤ اور انہیں دنیا نہ سمجھو بلکہ دین کا حصہ سمجھو۔الفضل ۲ ، ۶،۴، ۷۔اکتوبر ۱۹۶۰ء) کانس: انگریزی لفظ ”کارنس“ کا بگڑا ہوا۔کنگی۔چھجا سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۸۵ - مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ (مفہوماً ) سیرت ابن هشام جلد ا صفحه ۹۸-۹۹ - مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ رکھڈو : گیند ك كنز العمال جلد ۱۰ صفحہ ۲۴۲ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء میں یہ الفاظ آئے ہیں۔اُمِرُنَا اَنْ تكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهم