انوارالعلوم (جلد 16) — Page 127
انوار العلوم جلد ۱۶ احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔ہیں۔وہ آج بے شک اس پر فخر کر لیں مگر کل جب قوم میں بیداری پیدا ہو گی اُس وقت انہیں نظر آئے گا کہ انہوں نے اپنی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔آخر تم کرکٹ کھیل کر کس طرح زمینداروں کی راہنمائی کر سکتے ہو۔ہاں رکھڈو کھیل کر تم اِن میں ضرور رہ سکتے ہو۔پس کالج کا لڑکا جس کی تعلیم کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ زمینداروں کو فائدہ پہنچائے وہ اپنی زندگی کو تباہ کرنے والا ہے جب تک وہ گاؤں میں جا کر زمینداروں کی سی زندگی بسر کرنے کی عادت نہیں ڈالتا ، جب تک وہ سرسوں کا ساگ اور جوار کی روٹی نہیں کھاتا ، جب تک وہ رکھڈ وکھونڈی سے کھیلنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ اپنی تعلیم سے زمینداروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ پاگل خانے کا کوئی آدمی اچھے کپڑے پہن کر آ گیا ہے۔دیکھو حدیثوں میں آتا ہے صحابہ ا کہتے ہیں اَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَتَكَلَّمَ النَّاسَ عَلى قَدْرِ عُقُولِهِمْ = ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ہم لوگوں کی عقل کے مطابق گفتگو کیا کریں۔پس لوگوں کی عقلوں کے مطابق اپنے آپ کو بناؤ اور یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب تم سادہ خوراک کھاؤ ،سادہ لباس پہنو، سادہ کھیل کھیلو مثلاً میروڈ بہ کھیلو یا کھڈ وکھونڈی کھیلو، انگریزی کھیلیں فٹ بال اور کرکٹ وغیرہ ہندوستانیوں کے لئے موزوں نہیں یہ انگریز امراء نے اپنے بچوں کے لئے بنائی تھیں اور امیرا اور غریب میں فرق کرنے والی ہیں ان کھیلوں کا یہاں کھیلنا اپنے مُلک کے ساتھ دشمنی ہے بلکہ انسانیت کے ساتھ بھی دشمنی ہے۔ہماری زندگی تو ایسی سادہ ہونی چاہئے کہ گاؤں والے بغیر شرم کے ہمارے پاس آ سکیں اور ہم بغیر شرم کے ان کے پاس جا سکیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ جو کھیلیں ہونگی وہ اس قسم کی ہونگی اور ان میں میری ہدایات کو ملحوظ رکھا جائے گا میں چاہتا ہوں کہ تم وہ کھیلیں کھیلو جو تمہاری آئندہ زندگی میں کام آئیں۔مثلا گھوڑے کی سواری نہایت مفید چیز ہے۔میں بچپن میں جب گھوڑے کی سواری سیکھنے لگا تو حضرت خلیفہ اول نے ( آپ اُس وقت تک خلیفہ نہیں ہوئے تھے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے ) مجھے فرمایا میاں ! یوں سواری نہیں آتی گھوڑے کی سواری سیکھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ انسان پہلے گدھے پر بغیر پالان کے چڑھے جب گدھے کی سواری آ جائے تو پھر گھوڑے کی سواری خود بخود آ جاتی ہے اس کے بعد فرمانے لگے ہم نے بھی اسی طرح سواری سیکھی تھی ہم گدھے پر سوار ہوتے تھے تو وہ دولتیاں مارتا تھا اور اُچھلتا کودتا تھا ہم بھی خوب اچھلتے اور اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کی کوشش کرتے اس طرح لاتیں موڑ تو ڑ کر بیٹھنے کی عادت ہوگئی کہ گدھا لاکھ اُچھلتا کودتا ہم