انوارالعلوم (جلد 16) — Page 125
انوار العلوم جلد ۱۶ احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔وہ دو مہینہ کے بعد ٹوٹ جائے۔پھر آپ لوگوں کو یہ کہاں توفیق ہے کہ روپیہ ڈیڑھ روپیہ کا گیند لیں جس پر اگر چند ہٹیں بھی لگ جائیں تو وہ ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی بجائے دوسرا گیند لایا جائے۔آپ لوگوں کے لئے تو سب سے بڑی ورزش یہ ہے کہ جتنا دوڑ سکتے ہوں دوڑ میں کھلے میدان آپ کے سامنے ہوتے ہیں اور جتنا دوڑنا چاہیں دوڑ سکتے ہیں شہری جو آپ کے بھائی ہیں ویسے ہی خدا کے بندے ہیں جیسے آپ ہیں۔مگر جب وہ سفید فلالین کی پتلونیں پہن کر اور آدھی آدھی باہوں کی ٹول (TWILL) کی نمیض پہن کر نکلتے ہیں تو زمیندار سمجھتے ہیں کہ شاید وہ کسی ساہوکار کے بیٹے ہیں یا انہیں گورنمنٹ میں کوئی بڑا عہدہ حاصل ہے۔جب وہ سفید پتلونیں اور پٹیاں لگا کر اور آدھی آدھی بانہوں کی قمیض پہن کر کرکٹ کھیلنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تو زمیندار دور کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگ جاتے ہیں اور ہر ایک ہٹ کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ شاید بی اے یا ایم اے کو یہ کوئی خاص ہنر سکھایا گیا ہے اور کالج کا طالب علم بھی جب ہٹ مار کر اور تکبر سے گردن موڑ کر چلتا ہے تو سمجھتا ہے کہ سارے زمیندار جن میں سے کوئی اُس کا دادا ہوتا ہے اور کوئی اُس کا پڑدادا ہوتا ہے جانور ہیں۔پھر کرکٹ کے لئے اتنی بڑی فیلڈ ہونی چاہئے جو ہماری اس مسجد اقصیٰ سے اپنی وسعت میں چار گھنے بلکہ سات آٹھ گنے زیادہ ہو۔اور اتنی بڑی فیلڈ صرف بائیس آدمیوں کے کھیلنے کے لئے کافی ہوتی ہے تم سمجھ سکتے ہو کہ اگر صرف بائیس آدمیوں کے کھیلنے کے لئے اتنی بڑی فیلڈ کی ضرورت ہو سکتی ہے تو شہروں اور گاؤں کے لئے کتنی فیلڈوں کی ضرورت ہوسکتی ہے مثلا پھیر و چیچی میں چار پانچ سو مرد ہیں اگر سب کرکٹ کھیلیں تو اس کے لئے ۲۲ ۲۳ فیلڈوں کی ضرورت ہوگی بھلا اتنی زمین وہ کہاں سے لا سکتے ہیں یہ تو صرف پھیر و چیچی کا حال ہے جو ایک گاؤں ہے۔لاہور کی پانچ لاکھ آبادی ہے جس میں سے اڑھائی لاکھ مرد ہیں اور گو اب عورتیں بھی کھیل میں شامل ہوتی ہیں لیکن اگر مردوں کے لئے ہی فیلڈ میں ہوں تو ساٹھ ہزار ایکٹر زمین کی ضرورت ہو گی تب کہیں صرف لاہور والے کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔بھلا یہ بھی کوئی کھیلیں ہیں اور کیا دنیا کا کوئی معقول انسان ان کھیلوں کو ہر جگہ رائج کر سکتا ہے۔یہ تو یورپ والوں کی کھیلیں ہیں جہاں امیر اور غریب کو الگ الگ رکھا جاتا ہے ان میں ایسے ایسے لوگ ہیں جو ڈیڑھ دو لاکھ سے پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد رکھتے ہیں مگر یہاں سارے ضلع گورداسپور کے بڑے بڑے زمینداروں کی آمد کو اکٹھا کیا جائے تو وہ وہاں کے ایک شخص کی آمد کے دسویں حصہ کے برابر بھی نہیں بنیں گی۔پھر وہاں جو تاجر ہیں ہیں ہیں، تمہیں تھیں ، چالیس چالیس