انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 121

انوار العلوم جلد ۱۶ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔نقصان پہنچ جاتا ہے تو پھر یہ نہ کہو کہ میں وہاں نہیں تھا بلکہ دلیری سے کہو کہ میں نے ہی یہ فعل کیا ہے۔اور سچائی کو ایک لمحہ کے لئے بھی ترک نہ کرو۔تم اگر ظلم کے سہتے وقت یہ نمونہ دکھاؤ کہ تم سے کمزور تمہارے منہ پر تھپڑ مارے اور تم اپنی دوسری گال بھی اُس کی طرف یہ کہتے ہوئے پھیر دو کہ اے میرے بھائی! اگر تو مجھے مارنے پر ہی خوش ہے تو بے شک مجھے مار لے مگر خدا کی باتیں تھوڑی دیر کے لئے سن لے تو تمہارے اس نمونہ سے سارا گاؤں متاثر ہوگا۔اور اگر کبھی تمہیں ظلم کا مقابلہ کرنا پڑے اور تمہارے ہاتھوں سے دوسرے کو نا دانستہ طور پر کوئی نقصان پہنچ جائے اور معاملہ عدالت میں جائے تو تم عدالت میں جا کر بھی صاف طور پر کہو کہ اے حاکم! میں نے ان حالات میں یہ فعل کیا ہے اور جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچانے کی کبھی کوشش نہ کرو۔اگر تم ایسا کرو تو تمہاری کامیابی اور ترقی یقینی ہے۔لیکن اگر گالی کے مقابلہ میں تم بھی گالی دو گے، مار کے مقابلہ میں تم بھی مارو گے تو تمہارے اس فعل کی وجہ سے احمدیت کو کوئی ترقی نہیں ہو گی۔پس تم ان دونوں طریقوں کو اختیار کرو ماریں کھاؤ اور کھاتے چلے جاؤ، پیٹو اور پیٹتے چلے جاؤ ، سوائے اس کے کہ خدا اور رسول کا حکم کہے کہ اب تمہاری جان کا سوال نہیں ، اب تمہارے آرام کا سوال نہیں ، اب دین کی حفاظت کا سوال ہے، ایسی صورت میں میری نصیحت تمہیں یہی ہے کہ تم مقابلہ کرو اور اس نیکی کے حصول سے ڈرو نہیں۔اگر مظلوم ہوتے ہوئے اور دفاع کرتے ہوئے تمہارے ہاتھوں سے نادانستہ طور پر کسی کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے اور درحقیقت تم ظالم نہیں ہو تو تمہارے لئے جنت کے دروازے اور زیادہ پھل جاتے ہیں۔پس بہادر بنو اسی طرح کہ جب لوگ تم پر ظلم کریں تو تم عفو اور چشم پوشی اور درگزر سے کام لومگر جب دیکھو کہ چشم پوشی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور تمہیں دفاع اور خود حفاظتی کے لئے مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو پھر دلیری سے اس کا مقابلہ کرو اور اگر اس دوران میں تمہارے ہاتھوں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو پھر صاف کہہ دو کہ میں نے ایسا کیا ہے اور جھوٹ بول کر اپنے فعل پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کرو۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض بہادر بننا ہے اور بہادری کا ایک حصہ سچ بھی ہے۔بغیر سچ کے کوئی شخص بہادر نہیں ہو سکتا مگر سچ کے یہ معنی نہیں کہ تم ہر بات بیان کر دو۔اگر ایک ڈا کو تم سے پوچھتا ہے کہ تمہارے ماں باپ اپنا روپیہ گھر میں کہاں رکھتے ہیں یا چور پوچھتا ہے کہ تمہاری بہن یا تمہاری بیوی کا کتنا زیور ہے اور وہ کہاں رکھا ہوا ہے تو تمہارا یہ کام