انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 119

انوار العلوم جلد ۱۶ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔یہ ایک چھوٹا سا زخم ہے لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارے جہنم کی آگ اس میں بھر دی گئی ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔یہ ایک نشان تھا جو خدا تعالیٰ نے دکھایا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے لئے رستہ چھوڑ دو اس نے بتادیا کہ مکہ میں کفار کے مظالم آپ کمزوری یا بُزدلی کی وجہ سے برداشت نہیں کرتے تھے بلکہ بہادری اور طاقت کے ہوتے ہوئے برداشت کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی قربانیوں کو دیکھ کر لوگ ہدایت پا جاتے تھے۔قرآن آپ نے سنایا اور سالوں سنایا مگر حمزہ پر جو آپ کے چچا تھے کوئی اثر نہ ہوا، توحید کے وعظ آپ نے کئے اور سالوں کئے مگر حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا، اصلاحی تعلیم آپ نے دی اور سالوں دی مگر حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا ، نمازیں آپ نے پڑھیں اور پڑھائیں اور سالوں پڑھیں اور پڑھائیں مگر حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے صدقے دیئے اور دلائے اور سالوں صدقے دیئے اور دلائے مگر آپ کے چا حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا، آپ خانہ کعبہ سے باہر پتھر کی ایک چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آ گیا اور اُس نے پہلے تو آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر غصہ میں اُس نے زور سے آپ کے منہ پر ایک تھپڑ مار دیا۔حمزہ کی ایک لونڈی اُس وقت دروازہ میں کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی وہ اس کو برداشت نہ کر سکی اور اندر ہی اندر سارا دن گڑھتی رہی۔حمزہ شکار کے بہت شوقین تھے اور وہ گھوڑے پر چڑھ کر شکار کے لئے حرم سے باہر نکل جایا کرتے تھے اُس دن وہ شکار کر کے فخر سے گھر میں داخل ہونے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی لونڈی جو دیر سے ان کے گھر میں رہتی تھی اور جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اور جو آپ سے آپ کے دادا کو محبت تھی اُسے بھی جانتی تھی وہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔حمزہ نے پوچھا بی بی کیوں روتی ہو؟ عرب لوگ گھر کی ماماؤں اور خادماؤں کی بڑی عزت کرتے تھے۔انہوں نے سمجھا کسی نے اس کی ہتک کی ہوگی اور اب میرا فرض ہے کہ میں اس ہتک کا بدلہ لوں۔لونڈی نے اپنا سر او پر اُٹھایا اور کہا بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔حمزہ نے کہا کیوں کیا ہوا ؟ کونسی شکایت پیدا ہوگئی ہے؟ وہ کہنے لگی تم ہتھیار لگائے پھرتے ہو اور آج آمنہ کے بیٹے کو بغیر کسی قصور کے ابو جہل نے مارا ہے۔حمزہ وہیں سے پلٹے اور جہاں ابو جہل مکہ کے دوسرے سرداروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہاں پہنچے اور اُس کے سر پر زور سے کمان مار کر کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے صبر کیا اور تم نے اُس پر ظلم کیا۔تم اگر اپنے آپ کو بہادر سمجھتے ہو اور تم میں طاقت ہے تو آؤ اور مجھ سے مقابلہ کر لو۔اس کے بعد وہ اس جوش کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے