انوارالعلوم (جلد 16) — Page 95
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ لالچ اور مکہ والوں کے بغض کی وجہ سے ایک راہنما دیا مگر وہ رستہ میں ہی مر گیا۔آخر ا بر ہ کا لشکر مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر جا ٹھہرا اور ابرہہ نے ایک وفد بھجوایا اور مکہ والوں کو کہلا بھیجا کہ ہم عیسائی ہیں اور فطر تا رحمدل ہیں اس لئے میں تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا اور نہ تم سے مجھے کوئی گلہ ہے۔میں صرف کعبہ کے پتھر گرا کر واپس چلا جاؤں گا یا خود ہی کعبہ کو گرا دو تو میں آگے نہیں بڑھوں گا اور واپس چلا جاؤنگا۔مکہ اور حجاز کے لوگوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ہم تمہاری حکومت ماننے کے لئے تیار ہیں، ہم اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہیں کہ تمہیں اپنی آمد کا ایک ٹکٹ ہر سال دیتے رہیں مگر خدا کے لئے کعبہ کو نہ گر ا ؤ لیکن وہ نہ مانا۔آخر سفیروں نے اہل مکہ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ابرہہ کے پاس وفد لے کر جائیں اور اسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔چنانچہ عبدالمطلب اور بعض دوسرے عمائدینِ مکہ ابرہہ کے پاس گئے۔ابرہہ، عبدالمطلب کی وجاہت سے بہت متاثر ہوا اور خوش ہو کر کہنے لگا کہ مجھ سے آپ جو بھی خواہش کریں میں اسے ماننے کے لئے تیار ہوں۔اس سے پہلے ابرہہ کے سپاہیوں نے چھاپہ مارکر عبدالمطلب کے دوسو اونٹ پکڑ لئے تھے۔جب ابرہہ نے کچھ مانگنے کو کہا تو انہوں نے اپنے دوسو اونٹ جو اُس کے سپاہیوں نے پکڑ لئے تھے طلب کئے اور کہا کہ وہ مجھے واپس کر دئیے جائیں۔اس پرابر ہہ نے کہا کہ میں تو آپ کو بڑا عقلمند سمجھتا تھا مگر آپ کے اس جواب نے میرے دل پر سے ان اثرات کو بالکل دھو دیا ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ نے کس خیال سے ایسا معمولی مطالبہ کیا۔اس وقت حالت یہ ہے کہ کعبہ خطرے میں ہے اور آپ مجھ سے بجائے یہ خواہش کرنے کے کہ میں کعبہ پر حملہ کا ارادہ ترک کر دوں یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کے دوسو اونٹ آپ کو واپس دلوا دوں۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کو اونٹوں کی تو فکر ہے مگر کعبہ کی کوئی فکر نہیں۔عبدالمطلب کہنے لگے، بات یہ ہے کہ وہ اونٹ میرے ہیں اس لئے مجھے ان کی فکر ہے، لیکن کعبہ خدا کا گھر ہے اس لئے اس کی فکر خدا کو ہوگی مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے اور یہ کہہ کر واپس آگئے۔ابرہہ نے نوٹس دیدیا کہ فلاں دن حملہ ہوگا۔انہوں نے واپس آکر مکہ والوں کو اطلاع دیدی۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ مقابلہ فضول ہے۔اس قدیم قلعہ کو خالی کر کے پہاڑوں پر چڑھ جاؤ پاس ہی جبل حراء اور جبل ثور ہے۔انہوں نے مکہ کو خالی کر دیا اور تمام لوگ پہاڑوں پر چلے گئے۔حضرت عبدالمطلب کی عاجزانہ دعا جب وہ اس قدیم قلعہ کو چھوڑ رہے تھے تو اس وقت عبدالمطلب نے اُس حکم کو یاد کیا کہ جو