انوارالعلوم (جلد 16) — Page 84
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ قلعوں کو ان بادشاہوں نے کیوں بنایا تھا ؟ اور پھر خود ہی میرے دل نے اس سوال کا یہ جواب دیا کہ اس لئے کہ دشمن اُن کے ملک پر حملہ نہ کر سکے اور ان کی رعایا دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رہے مگر میں نے دیکھا کہ باوجود ان قلعوں کے دشمن غالب آتا رہا اور ان قلعوں کی دیواروں کو تو ڑ کر اندر داخل ہوتا رہا۔گولکنڈہ کا قلعہ بڑی اعلیٰ جگہ پر ہے آخر اور نگ زیب نے اسے فتح کر ہی لیا۔اسی طرح دہلی اور آگرہ کے قلعے مغلوں نے بنائے اور انگریزوں نے ان کو توڑ دیا اور اب وہ ہندوؤں کے ہاتھ میں ہیں۔پس میں نے سوچا کہ کیا کوئی ایسا قلعہ بھی ہے جسے عالم روحانی میں قلعہ کا مقام دیا گیا ہو اور جو اِن شاندار قلعوں سے زیادہ مضبوط اور پائدار ہونے کا مدعی ہو۔قلعہ کیوں بنائے جاتے ہیں؟ مگر میں نے اس تلاش سے پہلے یہ غور کرنا ضروری سمجھا کہ قلعہ کیوں بنائے جاتے ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ تین باتوں کے لئے :- اوّل۔قلعے اس لئے بنائے جاتے ہیں تا کہ مُلک کے لئے وہ نقطہ مرکزی ہو جائیں اور فوج وہاں جمع ہو کر اپنے نظام کو مضبوط کر سکے اور اطمینان سے ملکی ضرورتوں کے متعلق غور کر سکے۔دوم۔قلعے اس لئے بنائے جاتے ہیں تا کہ غیر پسندیدہ عناصر اندر نہ آسکیں اور جس کو روکنا چاہیں اس قلعہ کی فصیلیں روک دیں اور اندر امن رہے۔سوم۔قلعے اس لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ ارد گرد کے علاقہ کی حفاظت کر کے امن قائم رکھیں چنانچہ قلعوں پر تو ہیں لگا دی جاتی ہیں یا پرانے زمانہ میں منجنیقیں لگا دی جاتی تھیں اور ان سے صرف قلعہ ہی کی نہیں بلکہ ارد گرد کے علاقہ کی بھی حفاظت ہوتی تھی مگر یہ سب تدبیریں یا تو ناقص ثابت ہوتیں یا پھر ایک وقت تک کام دیتی تھیں۔اس کے بعد یہ قلعے صرف اپنے بنانے والوں کی یاد تازہ کر کے زائرین کے لئے لاچار آنسو بہانے کا موجب ہوتے تھے۔ان قلعوں کو دیکھ کر کہ آیا ان عبرت پیدا کرنے والے قلعوں کے مقابلہ میں کوئی خدائی قلعہ بھی ہے جو ان اغراض کو بھی پورا کرتا ہو جن کے لئے یہ قلعے بنائے جاتے تھے اور پھر امتدادِ زمانہ سے پیدا ہونے والی بلاؤں سے بھی محفوظ ہو؟ غور کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ایک روحانی قلعہ کا ذکر قرآن میں ہے جسے خدا تعالیٰ نے انہی اغراض کے لئے بنایا جن کے لئے قلعے بنائے جاتے تھے۔اور اسے ایسا مضبوط بنایا کہ کوئی غنیم اسے فتح نہیں کر سکتا اور جو سب دوسرے قلعوں پر غالب آ جاتا ہے اور قیامت تک اسی طرح کھڑا رہے گا جس طرح کہ وہ ابتداء میں تھا اور کبھی بھی