انوارالعلوم (جلد 16) — Page 553
۸۰ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو حصہ دیا جائے اور مزدوروں کو اتنا حصہ دیا جائے مگر ظاہر ہے کہ یہ طریق بے اصولا ہے اس لئے کہ کسی تجارت میں نفع کم ہو گا اور کسی میں زیادہ۔ہمیں دُنیا میں روزانہ یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ دوغلہ کے تاجر ہوتے ہیں ایک تو سارا دن بیٹھا مکھیاں مارتا رہتا ہے اور دوسرا ہر روز اپنی تجوری بھر کر گھر میں لے آتا ہے، ایک شخص کپڑا بیچتا ہے تو روزانہ اس کے دو دوسو تھان نکل جاتے ہیں اور دوسرا وہی کام کرتا ہے تو سارے دن میں اس کا ایک تھان بھی نہیں نکلتا۔پس اس فرق کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی تاجر کے ملازموں کو ایک جیسی محنت پر زیادہ آمد ہو گی اور کسی کے ملازموں کو کم ہو گی یعنی ہوشیار مالک کے ملازموں کو زیادہ آمد ہو رہی ہو گی اور دوسرے کے ملازموں کو کم ، پس یہ تقسیم عقل کے بالکل خلاف ہو گی۔اس کے یہ معنے ہوں گے کہ پہلے تو لیاقت پر آمد کا انحصار ہوتا تھا پھر صرف جوئے بازی اور اتفاق پر ہو گا اور پھر لوگ اس بات پر لڑیں گے کہ ہم فلاں مالک کے کارخانہ میں کام کریں گے فلاں کے کارخانہ میں کام نہیں کریں گے مگر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کوئی مزدور کہاں کام کرے۔اگر کہیں سوشلزم یہ انتظام کرے گی کہ سب کارخانوں کے ملازموں کے لئے ایک اعلیٰ شرح تنخواہ مقرر کر دے گی تو پھر بھی زیادہ ہوشیار تاجر سوشلزم کے مجوزہ منافع سے زیادہ ہی لے لے گا اور دوسرا تاجر نقصان میں رہے گا اور اس طرح سوشلزم پھر بھی اپنی سکیم میں ناکام رہے گی اور جن کی تجارت اچھی نہ چلتی ہو گی اُن کے ملازم نفع کی جگہ اصل سرمایہ تک کھا جائیں گے اصل بات یہ ہے کہ گزارہ کے دو ہی معقول طریق ہیں۔(۱)۔لیاقت اور (۲)۔اقل ضرورت گزارہ کی۔مگر یہ دونوں صورتیں اوپر کے بتائے ہوئے سوشلسٹ طریق میں نہیں پائی جاتیں۔غرباء کی ضروریات کو پورا کرنے کا دوسرا ذریعہ دوسری صورت سوشلزم یہ پیش کرتی ہے کہ تمام اہم صنعتیں حکومت کے قبضہ میں ہوں۔مثلا ریل کا نیں اور بجلی وغیرہ۔اسی طرح اہم تجارتوں کی مناپلی اور ان پر قبضہ و تصرف حکومت کے اختیار میں ہو۔مگر اس پر بھی کئی اعتراض پڑتے ہیں مثلاً (۱) یہ تدبیر عالمگیر نہیں ہو سکتی بلکہ ہر ملک میں الگ الگ ہو گی حالانکہ سوال یہ تھا کہ ساری دنیا کے بھوکوں ، ساری دُنیا کے نگوں، ساری دُنیا کے بیماروں، ساری دُنیا کے جاہلوں اور ساری دُنیا کے بے سروسامان لوگوں کا انتظام کیا جائے مگر اس طرح ساری دُنیا کے حاجتمندوں کا علاج تو پھر بھی نہ ہو گا ہر حکومت صرف اپنے ملک کے غرباء کا ہی خیال رکھے گی پس یہ تدبیر عالمگیر نہیں ہے۔دوسرے