انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 545

25 انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ملازمت یا مزدوری کے فائدہ اٹھا سکیں گے مثلاً وہ کوئی عمارت بنانی شروع کر دے تو گودہ عمارت اپنے لئے بنائے گا مگر روپیہ خرچ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی روزی کا سامان مہیا ہو جائے گا۔یوں تو فضول عمارتوں پر روپیہ برباد کرنے سے اسلام منع کرتا ہے مگر بہر حال اگر وہ لغوطور پر عمارتیں نہ بنائے بلکہ اپنے ذاتی فائدہ کے لئے بنائے تو بھی لوہاروں اور مستریوں اور مزدوروں اور کئی اور لوگوں کو کام میسر آ جائے گا لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے بلکہ سونے چاندی کے زیور بنا کر گھر میں جمع کرنا شروع کر دے تو اس سے دوسروں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا پس اسلام روپیہ کو جمع کرنے سے منع کرتا ہے اسی طرح عورتوں کے لئے کثرت سے زیورات تیار کرنا بھی پسند نہیں کرتا یوں تھوڑا سا زیور انہیں بنوا کر دینا جائز ہے۔تیسرا حکم یعنی سود کی ممانعت تیسرے اسلام سود کی ممانعت کرتا ہے۔سود بھی ایک ایسی چیز ہے جو روپیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے اس کے ذریعہ سے وہ تاجر جو پہلے سے اپنی ساکھ بٹھا چکے ہوتے ہیں اور جن کے پاس ایک وقت میں کوئی سرمایہ نہیں ہوتا جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت ہو آسانی سے بنکوں سے لے لیتے ہیں یا ایک شخص معمولی سرمایہ والا ہوتا ہے مگر اُس کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے وہ کسی بنک کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ سے دوستی پیدا کر کے اُس سے لاکھ دو لاکھ روپیہ لے لیتا ہے اور تھوڑے عرصہ میں ہی دو لاکھ سے دس لاکھ بنالیتا ہے اور پھر چند سالوں کے اندر اندر وہ کروڑ پتی ہو جاتا ہے۔اس سے بھی دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے ہمارے ملک کے زمیندار خوب جانتے ہیں کہ ان کا کس قدر روپیہ بنوں کے پاس جاتا ہے اگر سُود کے بغیر ان کے گزارہ کی کوئی صورت ہو جاتی تو ہر زمیندار خاندان کی مالی حالت آج سے بدرجہا بہتر ہوتی مگر سُود کی بدولت اگر ایک زمیندار دو ہزار روپیہ کسی بیٹے سے قرض لیتا ہے تو چند سالوں میں وہ بعض دفعہ دس دس ہزار روپیہ سود کا دے دیتا ہے مگر ابھی دو ہزار روپیہ جو اس نے قرض لیا تھا وہ بدستور موجود ہوتا ہے۔پس سود ایک بہت بڑی لعنت ہے جو بنی نوع انسان کے سروں پر مسلط ہے یہ ایک جونک ہے جو غریبوں کا خون چوستی ہے اگر دنیا امن کا سانس لینا چاہتی ہے تو اس کا طریق یہی ہے کہ دنیا سے سود کو مٹا دیا جائے اور اس طرح دولت کو محدود ہاتھوں میں جمع نہ ہونے دیا جائے۔چوتھا حکم یعنی زکوۃ اور صدقات کا دینا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شک اسلام ایک طرف تو روپیہ کسی کے ہاتھ میں نہیں