انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 544

21 انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کا علم دیا ہے چنانچہ اسلامی احکام کے مطابق ہر مرنے والے کی جائداد اس کے ورثاء میں تقسیم ہو جاتی ہے اور ماں کو ، باپ کو ، بیٹوں کو ، شو ہر کو، بیوی کو غرض ہر ایک حقدار کو اس کا مقررہ حق مل جاتا ہے اور کسی شخص کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس تقسیم کو اپنی مرضی سے بدل دے بلکہ قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر تم اس رنگ میں جائداد کو تقسیم نہیں کرو گے تو گنہگار ٹھہرو گے۔اس کے مقابلہ میں جو دوسرے مذاہب ہیں ان میں سے کسی میں تو صرف پہلے بیٹے کو وارث قرار دیا گیا ہے اور کسی میں کسی اور کو منو میں لکھا ہے کہ صرف بیٹوں کو ورثہ دیا جائے بیٹیوں کو نہ دیا جائے نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ایک شخص یا چند اشخاص کے ہاتھ میں تمام دولت جمع ہو جاتی تھی اور غرباء ترقی سے محروم رہتے تھے۔اسلام کہتا ہے کہ جب تک تم اپنی دولت کو لوگوں میں پھیلاؤ گے نہیں اُس وقت تک قوم کو ترقی حاصل نہیں ہو سکے گی چنانچہ دیکھ لو اگر کسی شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو اور اُس کے دس بیٹے ہوں تو ہر ایک کو دس دس ہزار روپیہ مل جائے گا آگے اگر ان کے تین تین، چار چار بیٹے ہوں تو یہ دس ہزار کی رقم اڑھائی اڑھائی ، تین تین ہزار روپیہ تک آ جائے گی اور اس طرح سب کو دولت کے حصول کے لئے نئے سرے سے محنت کرنی پڑے گی یہ نہیں ہو گا کہ وہ محض اپنے باپ دادا کی جائداد کے سہارے بیٹھے رہیں اور نہ صرف خود لکھے ہو جائیں بلکہ اپنی دولت کو بند کر لیں۔انگریزوں نے تو پنجاب کی نو آبادیوں میں زمین کی تقسیم کے وقت یہ شرط لگا دی تھی کہ صرف بڑا بیٹا ان کا وارث ہوسکتا ہے مگر اب انہوں نے یہ شرط اُڑا دی ہے۔دوسرا حکم یعنی روپیہ جمع کرنے کی ممانعت دوسرے اسلام نے روپیہ جمع کرنے سے روکا ہے یعنی وہ یہ نہیں چاہتا کہ روپیہ کو بند رکھا جائے بلکہ وہ مجبور کرتا ہے کہ لوگ یا تو روپیہ کو خرچ کریں یا اسے کسی کام پر لگائیں کیونکہ دونوں صورتوں میں روپیہ چکر کھانے لگے گا اور لوگوں کو فائدہ ہوگا لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کے متعلق اسلام یہ وعید سناتا ہے کہ اسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو سونا اور چاندی وہ دنیا میں جمع کرے گا اسی کو آگ میں گرم کر کے قیامت کے دن اسے داغ دیا جائے گا۔اس حکم میں حکمت یہی ہے کہ اگر لوگ سونا چاندی جمع کریں گے تو غریبوں کو کام نہیں ملے گا لیکن اگر وہ اس روپیہ کو کام پر گے تو وہ لوگ جن سے لین دین ہوگا فائدہ اُٹھا ئیں گے۔اسی طرح کچھ لوگ بطور لگا دیں