انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 520

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو مقدر ہے اور جب یہی حالت دنیا کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے تو کس کی طاقت ہے کہ اس حالت کو بدل سکے۔دوسرے اس مذہب میں ورنوں کا اصول ہے جس کے ماتحت برہمن کے کام شودر نہیں کر سکتا اور شودر کے کام ویش نہیں کر سکتا۔اسی طرح ویش کے کام کشتری نہیں کر سکتا گویا ہر ایک کا الگ الگ دائرہ عمل ہے اور ایک شخص دوسرے کے دائرہ عمل میں دخل نہیں دے سکتا۔یہ اصول بھی ایسا ہے جس کے ماتحت امیر اور غریب کا امتیاز کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ نیا نظام جو اس امتیاز کو دور کرے وہ وہی ہو سکتا ہے جس میں ایک غریب اور کنگال کا بھی خیال رکھا جائے۔اگر کوئی چوہڑہ یا سائنسی ہو تو اس کے حقوق کو بھی محفوظ کیا جائے اور ہر شخص کے لئے گورنمنٹ کھانے اور کپڑے کا انتظام کرے۔اسی طرح غرباء کے لئے مال کا انتظام کرے تاکہ وہ اپنی اور ضروریات پوری کر سکیں۔مگر منو کہتے ہیں کہ:- اگر شودر دھن جمع کرے تو راجہ کا فرض ہے کہ وہ اس سے چھین لے کیونکہ شودر مالدار ہو کر برہمنوں کو دکھ دیتا ہے۔۱۴ اس قانون کے ماتحت اگر برہمن یا ولیش کے پاس دس لاکھ روپیہ ہو اور شودر کو خیال آئے کہ پانچ روپیہ ماہوار میں بھی جمع کر لوں اگلے سال بچی کی شادی ہے اُس وقت یہ روپیہ کام آئے گا تو راجہ کا فرض ہے کہ وہ اس سے تمام روپیہ چھین لے کیونکہ وہ شودر ہے اور شودر کا حق نہیں کہ اس کے پاس روپیہ جمع ہو۔اب بتاؤ اس اصول کے ماتحت نیا نظام کس طرح قائم ہو سکتا ہے۔اور اگر یہ نظام قائم ہو تو اس کے ماتحت غرباء کی حالت کس طرح سُدھر سکتی ہے۔اسی طرح لکھا ہے کہ : - اگر برہمن نے ایک پیچ سے قرض لیا لیکن وہ ادا نہیں کر سکتا تو شودر کا فرض ہے کہ وہ برہمن سے کوئی روپیہ نہ لے لیکن اگر شودر نے برہمن کا روپیہ دینا ہو اور شو در غریب ہو تو اونچی ذات والوں کی مزدوری کر کے برہمن کے قرض کو ادا کرے ،، ۱۵ گویا اگر برہمن قرض لینے والا ہو اور جس سے قرض لیا گیا ہو وہ پہنچ قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اگر وہ قرض ادا نہیں کر سکتا تو بیچ قوم والے کا فرض ہے کہ برہمن سے اپنے روپیہ کا تقاضا نہ کرے۔ایسی صورت میں وہ یہ نہیں کر سکتا کہ عدالت میں برہمن کے خلاف دعوی دائر کر دے اور اس سے اپنا روپیہ وصول کرے بلکہ اس صورت میں معاملہ کو ختم سمجھنا چاہئے اور شودر کو روپیہ کی وصولی کا خیال اپنے دل ۴۷