انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 495

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو چوتھے اصول کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ پیداوار کی تقسیم ہم کریں گے اور ہم فیصلہ کریں گے کہ فلاں فلاں علاقہ میں فلاں فلاں چیز ہوئی جائے اور لوگوں کا فرض ہوگا کہ وہی چیز بوئیں۔پانچواں اُصول پانچواں اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ خالص دماغی قابلیتیں بغیر ہاتھ کے کام کے کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔وہ کہتے ہیں یہ کہنا کہ فلاں شخص کوئی علمی بات سوچ رہا ہے بالکل لغو ہے اصل چیز ہاتھ سے کام کرنا ہے دماغی کام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ ہاتھ سے کام کریں اور اگر وہ ہاتھ سے کام نہ کریں تو بیشک بھو کے مریں ہم اُن کی مدد نہیں کریں گے۔چھٹا اُصول چھٹا اُصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ ہمیشہ اپنے اصول کے لئے حملہ کا پہلو اختیار کرنا چاہئے دفاع کا نہیں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بچاؤ کیا جائے بلکہ اپنے اصول کے لئے دوسروں پر حملہ کرنا چاہئے۔پہلے اصول کا نتیجہ یعنی تمام پہلے اصول کے نتیجہ میں بالشوزم نے تمام مالداروں کی جائدادوں پر قبضہ کر لیا کیونکہ انہوں نے فیصلہ کر دیا کہ جو کچھ ملتا ہے لے مالداروں کی جائدادوں پر قبضہ لو، زمینیں لے لو، جائدادیں لے لو، اموال لے لو اور اس طرح جتنا کسی کے پاس ہو جبرا اپنے قبضہ میں کرلو۔دوسرے اصول کا نتیجہ یعنی ہاتھ سے کام کرنے دوسرے اصول کے مطابق بالشوزم نے ہر ہاتھ سے کام والے کو ضرورت کے مطابق سامان مہیا کرنا کرنے والے کو اُس کی ضرورت کے مطابق سامان مہیا کرنے کا ذمہ لیا۔مثلاً ایک گھر کے پانچ افراد ہیں وہ فوراً فیصلہ کر دیں گے کہ ان پانچ افراد کو اتنا کپڑا دے دیا جائے ، اتنا غلہ دے دیا جائے ، اتنا ایندھن دے دیا جائے ، اسی طرح ڈاکٹر مقرر کر دئیے جائیں گے جو بیماری پر اُن کا مفت علاج کریں گے۔گویا اس طریق کے مطابق ہر شخص کو پہننے کے لئے کپڑا ، کھانے کے لئے غلہ اور علاج کے لئے دوا مل جائے گی۔حکومت کا کام ہوگا کہ وہ لسٹیں بنائے اور افراد کی جس قدر ضرورتیں ہوں پوری کر دے۔اور واقع میں اگر غور کیا جائے تو بالشوزم نے اس مشکل کو دور کر دیا ہے اور اگر اس طریق سے کام لیا جائے تو کوئی شخص بھو کا یا ننگا نظر نہیں آسکتا سوائے اِس کے کہ کوئی مذہبی آدمی ہو جیسے پادری وغیرہ کیونکہ ان کے