انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 492

19 انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو نظام حکومت کے متعلق لینن اور مارٹو و کے نظریوں میں اختلاف پہلا اختلاف لین زیادہ تر مارکس کا منبع تھا اس نے یہ اصول مقر کیا ہوا تھا کہ ہمیں ہر دوسری پارٹی سے علیحدہ رہنا چاہئے اس کے بغیر ہم اپنے مقاصد کو صحیح طور پر نہیں پاسکیں گے لیکن مارٹو و کا یہ خیال تھا کہ طاقت حاصل کرنے سے پہلے ہمیں دوسرے مقتدر عناصر سے جو کہ فعال ہیں تعاون رکھنا چاہئے غرض لینن کی تھیوری یہ تھی کہ ہم دوسروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہم جو کچھ لائیں گے اپنے زور سے لائیں گے کسی کے زیر احسان ہو کر نہیں لائیں گے دوسرے الفاظ میں لینن کی پالیسی یہ تھی کہ ہم دوسروں سے نہیں ملیں گے ہمارے پاس سچائی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم بالآ خر جیت جائیں گے۔دوسرا اختلاف پھر ین کا یہ خیال تھا کہ شروع میں ڈکٹیٹر شپ کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا لیکن مارٹو و کا یہ خیال تھا کہ شروع سے ہی جمہوری حکومت قائم ہونی چاہئے۔مارٹو و سمجھتا تھا کہ اگر لیڈر بنا تو لینن ہی بنے گا میں نے نہیں بننا اس لئے وہ شروع سے ہی جمہوری حکومت قائم کرنا چاہتا تھا۔مارٹو و کا خیال کہ سزائے موت بالکل ہٹا دی جائے پھر مارٹو ونی گورنمنٹ میں سوشلسٹ اصول کے ماتحت چاہتا تھا کہ سزائے موت کو بالکل ہٹا دیا جائے لیکن لینن نے اس بات پر زور دیا کہ میں مانتا ہوں کہ پھانسی کی سزا نہیں ہونی چاہئے لیکن اس وقت اگر یہ بات قانون میں داخل کر دی گئی تو زار کو پھانسی پر لٹکا یا نہیں جا سکے گا اور لینن کا خیال تھا کہ زارا اگر معطل ہو کر بھی زندہ رہے تو حکومت نہیں چل سکتی اس لئے لینن نے کہا کہ خواہ صرف زار کی جان لینے کے لئے موت کی سزا کی ضرورت ہو تب بھی یہ قائم رہنی چاہئے۔گو یا زار کی دشمنی اُس کے دل میں اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ اُس نے کہا اگر خالی زار کو پھانسی کے تختہ پر لٹکانے کے لئے اس قانون کی ضرورت ہو تب بھی یہ قانون ضرور قائم رہنا چاہئے۔ان اختلافات کا نتیجہ یہ ہوا کہ لینن کو زیادہ ووٹ ملے اور اس کے ساتھیوں کو پارٹی کی راہنمائی کا حق دیا گیا اور اپنی کثرت کی وجہ سے وہ بالشویک کہلائے اور ان کے مخالف اپنی قلت کی وجہ سے منشویک کہلائے۔زار کے