انوارالعلوم (جلد 16) — Page 471
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ یہی ہیں کہ پوری شرائط کے ساتھ نماز پڑھو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء اور فجر کی نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتے میں چاہتا ہوں کہ اپنی جگہ کسی کو امام مقرر کروں اور ایسے لوگوں کے مکانوں کو مکینوں سمیت نذر آتش کر دوں کہ یہی دو وقت زیادہ سردی اور نیند کے ہوتے ہیں اس لئے جب ان نمازوں میں نہ آنے والوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا رحیم وکریم اور محبت کرنے والا شخص اس قدر ناراضگی کا اظہار فرماتا ہے تو ظاہر ہے کہ باقی نمازوں میں نہ آنے والے کس قدر مُجرم ہیں نماز با جماعت سے محرومی ہلاکت ہے۔یہ ایک مستقل مضمون ہے اور میں وقتاً فوقتاً اسے بیان کرتا بھی رہتا ہوں مگر افسوس ہے کہ باوجود باجماعت نماز کے مواقع کے بہم پہنچنے کے ابھی ہماری جماعت میں اس کا رواج اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔پہلے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ دوست ایک دوسرے سے دُور دُور رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ وہ پڑھ نہ سکتے تھے اس لئے یہ عادت پڑ گئی کہ گھروں میں نماز پڑھ لی جائے اگر چہ اس صورت میں بھی نماز باجماعت کی یہ ترکیب ہے کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرالی جائے تو عادت نہ ہونے کی وجہ سے باجماعت نماز کی قیمت لوگوں کے دلوں میں نہیں رہی اس عادت کو ترک کر کے نماز باجماعت کی عادت ڈالنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے مواقع پر جب نماز کے لئے مسجد میں نہ جاسکتے تھے گھر میں ہی جماعت کرالیا کرتے تھے اور شاذ ہی کسی مجبوری کے ماتحت الگ نماز پڑھتے تھے۔اکثر ہماری والدہ کو ساتھ ملا کر جماعت کرا لیتے تھے والدہ کے ساتھ دوسری مستورات بھی شامل ہو جاتی تھیں پس اول تو ہر جگہ دوستوں کو جماعت کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنی چاہئے اور جس کو یہ موقع نہ ہو اسے چاہئے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی مل کر نماز باجماعت کرالیا کرے ہر جگہ دوستوں کو نماز باجماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں شہر بڑا ہو اور دوست دور دور رہتے ہوں وہاں محلہ وار جماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں مساجد نہیں ہیں وہاں مساجد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے دیکھا ہے بعض جگہ کے دوستوں میں یہ نقص ہے کہ وہ یہ ارادہ کر لیتے ہیں کہ فلاں جگہ ملے گی تو مسجد بنائیں گے ایسے دوستوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا خدا تعالیٰ سے ملاقات کو بیوی کی ملاقات جتنی بھی اہمیت نہیں کیا کوئی شخص یہ بھی کبھی کہتا ہے کہ جب مجھے فلاں محلہ میں زمین ملے گی تو وہاں مکان بنا کر شادی کروں گا ؟ پھر خدا تعالیٰ کی ملاقات کے لئے گھر کی تعمیر کو کسی خاص جگہ ملنے پر ملتوی رکھنا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔جہاں بھی جگہ ملے مسجد بنا لینی چاہئے پھر اگر اپنی پسند کی جگہ حاصل ہو جائے تو اس کے سامان کو وہاں لے جا