انوارالعلوم (جلد 16) — Page 421
خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ اور مؤمن دل اور مؤمن شکل اور کا فردل اور کافر شکل یہ چار قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔جس کا دل بھی مؤمن ہے اور شکل بھی مؤمن ہے وہ بڑا مبارک انسان ہے کیونکہ اس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور اس کا باطن بھی اچھا ہے ایسا شخص جب خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالی اسے پہچان لیتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا بندہ ہے اور جب وہ بندوں کی طرف منہ کرتا ہے تو بندے بھی کہتے ہیں یہ شخص خدا تعالیٰ کے دین کا سپاہی ہے۔اور جس کی شکل مؤمنوں والی ہے مگر دل کا فر ہے وہ جب دنیا کی طرف منہ کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ بھی اسلام کی شوکت کو بڑھانے کا موجب ہے مگر جب خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اسلام کاغذ ا ر ہے اور جس کی شکل کا فروں والی ہے مگر دل مؤمن ہے اُسے جب مؤمن بندے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ اسلام کی شوکت کو کم کرنے کا موجب ہے مگر جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے اس بندے کا میرے ساتھ تعلق ہے مگر وہ اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ یہ شخص اتنی دُور سے میرے ملنے کے لئے آیا لیکن دروازے پر آکر بیٹھ گیا ہے ایک دو قدم اور اُٹھائے تو مجھ تک پہنچ سکتا ہے مگر وہ دو قدم نہیں اُٹھاتا اور دروازے پر آکر بیٹھ جاتا ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص ۱۷ سو گز چل کر تو اپنے محبوب کے ملنے کے لئے چلا جائے مگر جب ساٹھ گز باقی رہ جائیں تو وہیں بیٹھ جائے ایسا شخص قریب پہنچ کر بھی خدا تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ وہ مجھ سے ملنے کے لئے تو آیا مگر چند قدم نہ اُٹھانے کی وجہ سے پیچھے بیٹھ رہنے پر مجبور ہو گیا۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل بھی کافروں والی ہوتی ہے اور دل بھی کافروں والا ہوتا ہے ایسے لوگوں سے کسی کو بھی دھوکا نہیں لگتا کیونکہ ان کا بھی ظاہر اور باطن یکساں ہوتا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں عیسائیت نے اگر دلوں کو کا فرنہیں بنایا تو اس نے انسانی چہروں کو ضرور کا فر بنا دیا ہے اور بہت سے نوجوان اس مرض میں مبتلاء ہیں کہ وہ مغربی تہذیب اور مغربی تمدن کے دلدادہ ہو رہے ہیں۔وہ اپنے سروں کے بال اپنی داڑھیوں اور اپنے لباس میں مغرب کی نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی شکل کافروں شه والی بن جاتی ہے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ جو شخص اپنی ظاہری شکل کسی اور قوم کی طرح رکھتا ہے وہ ہم میں سے نہیں یعنی جب ہم کسی کو دیکھیں گے کہ اُس کی شکل ہندؤوں سے ملتی ہے یا عیسائیوں سے ملتی ہے تو ہمیں اُس پر اعتبار نہیں آئے گا اور ہم سمجھیں گے کہ یہ بھی انہی سے ملا ہوا ہے اور جب ہمیں اُس پر اعتبار نہیں آئے گا تو یہ لازمی