انوارالعلوم (جلد 16) — Page 399
لشکر کا انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطاب ہو تو الگ بات ہے مگر میں نے دیکھا ہے بالعموم گروپ لیڈر چھوٹی عمر کے ہیں اور یہ ایک نقص ہے جس کو دور کرنا چاہئے۔اگر تو یہ انتخاب کی غلطی کا نتیجہ ہے تو اس کی اصلاح ہونی چاہئے اور اگر یہ طریق عمل بڑوں کی کسی غلطی کے نتیجہ میں اختیار کیا گیا ہے تو انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے آج تو سب گھتم گتھا بیٹھے ہوئے ہیں اور گروپ لیڈر اپنے اپنے گروپ کے ساتھ نظر نہیں آتے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آئندہ ایسا اجتماع ایک وسیع میدان میں ہوگا اور ہر گروپ الگ الگ دکھائی دے گا پس اگر اُس وقت بھی گروپ لیڈر لڑکے ہی ہوئے تو اُن کے لئے جو جماعت میں زیادہ علم والے یا زیادہ تقویٰ والے سمجھے جاتے ہیں کتنی شرم کی بات ہوگی۔انہوں نے دنیا کو تو اپنے ظاہر کی وجہ سے دھوکا دیا مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ جماعت میں اچھے کارکن نہیں تھے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ قاعدہ کلیہ ہونا چاہئے کہ ہمیشہ بڑی عمر کے نوجوان گروپ لیڈر بنیں۔میں نے اپنے خطبہ میں ہی مثال دی تھی کہ اسامہ بن زید کو جن کی عمر ۱۶ سال تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکی سردار مقرر فرما دیا تھا جس میں حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمرؓ بھی شامل تھے حالانکہ اسامہ نہ تقویٰ میں اُن سے زیادہ تھے اور نہ جنگی فنون میں اُن سے زیادہ ماہر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جس علاقہ میں یہ لشکر جا رہا تھا اُس علاقہ میں حضرت اسامہ کے والد مارے گئے تھے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو دوباتیں بتانے کیلئے اسامہ کو اس لشکر کا سردار مقرر فرمایا۔اول یہ کہ ہمارے آدمی اگر مارے جائیں تو ہم اُن کے پسماندگان کی عزت کرتے ہیں۔تم نے زید کو مارا تھا ہم نے اُس کے بیٹے اسامہ کو لشکر کا سردار بنا دیا۔دوسرے یہ کہ ہم تمہاری ان تکالیف سے ڈرتے نہیں۔تم نے زید کو مارا تھا اب اُسی کا لڑکا اسامہ پھر تمہارا مقابلہ کرنے کے لئے آ رہا ہے۔پس اس انتخاب کے ذریعہ ایک طرف تو آپ نے یہ بتایا کہ ہمارے آدمی موت سے نہیں ڈرتے باپ مرا ہے تو بیٹا اس کی جگہ آ گیا ہے اور دوسری طرف آپ نے یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے والوں کی عزت کرتے اور ان کے پسماندگان کا احترام کیا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ تک اس لشکر میں شامل تھے حالانکہ اسامہ تقویٰ یا علم میں ان سے بڑھے ہوئے نہیں تھے تو استثناء بھی ہو سکتے ہیں مگر قاعدہ کلیہ میں ہے کہ جس میں تقویٰ زیادہ ہوا سے مقدم رکھا جائے۔تقویٰ سے فیصلہ نہ ہو سکے تو پھر علم کو مقدم رکھا جائے گا اور جسے زیادہ علم ہو گا اُسے عہدہ دیا جائے گا مگر علم سے مراد کتابی علم نہیں بلکہ کام کرنے کی اہلیت اور اس کے لئے جس علم کی ضرورت ہو اس کی موجودگی مراد ہے۔اگر اس طرح بھی فیصلہ نہ ہو سکے تو جس کی عمر زیادہ ہوا سے