انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 24

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) بادشاہوں نے ظلم کرنے شروع کر دیئے تو پہلے تو مسجد میں جب بادشاہ آتا تو تعظیم کے طور پر لوگ اُس کے لئے جگہ چھوڑ دیتے مگر بعد میں وہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے اور جب نوکر کہتے کہ جگہ چھوڑ دو تو وہ کہتے کہ تم ہمیں مسجد سے اُٹھانے والے کون ہو؟ مسجد خدا کا گھر ہے اور یہاں امیر اور غریب کا کوئی امتیاز نہیں۔آجکل کا زمانہ ہوتا تو بادشاہ نوکروں سے لوگوں کو پٹوانا شروع کر دیتے مگر اُس وقت اسلام کا اس قدر رُعب تھا کہ بنوامیہ نے مسجد کے باہر مُجرے بنائے اور وہاں نماز پڑھنا شروع کر دیا مگر یہ جرأت نہ ہوئی کہ مسجد میں آ کر لوگوں کو اُٹھا سکیں۔تو مسجد وُضِعَ لِلنَّاسِ ہوتی ہے اور اس کے دروازے تمام بنی نوع انسان کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔کالے اور گورے کی اس میں کوئی تمیز نہیں ہوتی ، چھوٹے اور بڑے کا اس میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، بلکہ ہر ایک کا مسجد میں مساوی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔غرض مسجد کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں مساوات پیدا کرتی ہے۔(۲) تقدس اور ذکر الہی کا مرکز دوسری غرض مسجد کی اللہ تعالی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مُبَارَكاً وہ مقام مبارک ہوتا ہے۔میں مسجد کے مقامِ مبارک ہونے کی اور مثالیں دے دیتا ہوں۔(الف) مسجد اس لئے مقامِ مبارک ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص ہوتی ہیں، باقی گھروں میں تو اور کئی قسم کے دنیوی کام بھی کر لئے جاتے ہیں مگر وہاں دُنیوی کاموں کی اجازت نہیں ہوتی۔یا اگر کئے بھی جائیں تو وہ اتنے قلیل ہوتے ہیں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جیسے مسجد میں اگر کوئی غریب شخص رہتا ہو تو اُسے اجازت ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر کھا نا کھالے مگر بہر حال زیادہ تر کام مساجد میں یہی ہوتا ہے کہ وہاں ذکر الہی کیا جاتا ہے اور درود پڑھا جاتا ہے اور دعائیں کی جاتی ہیں اور اس طرح اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔(ب) پھر مساجد اس لحاظ سے بھی مقام مبارک ہوتی ہیں کہ وہ پاکیزگی کا مقام ہوتی ہیں اور یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں گند پھینکا جائے ، مثلاً پاخانہ پیشاب کرنے تھوکنے یا بلغم پھینکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اسی طرح حکم ہے کہ گندی اور بدبودار چیزیں کھا کر مسجد میں مت آؤ۔جنبی کا مسجد میں آنا بھی منع ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ ہدایت دیا کرتے تھے کہ مساجد کو صاف ستھرا رکھو اور اس میں خوشبوئیں جلاتے رہو گے مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس ہدایت کو بالکل نظر انداز کر رکھا ہے اور ان کی مسجدیں اتنی گندی ہوتی ہیں کہ وہاں نماز پڑھنے