انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 366

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) شاہ ایران کی ایک ذلیل پیشکش جسے ایران میں جب مسلمان گئے تو کسرٹی کے جرنیلوں نے اُس سے کہا کہ مسلمان اپنی مسلمانوں نے پائے استحقار سے ٹھکرادیا سےٹھکرادیا طاقت وقوت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ ایران پر بھی چھا جائیں ، ان کے متعلق کوئی انتظام کرنا چاہئے۔کسرای نے کہا تم میرے پاس اُن کے ایک وفد کو لاؤ، میں اُن سے خود باتیں کروں گا۔جب مسلمان اُس کے دربار میں پہنچے تو کسری اُن سے کہنے لگا کہ تم لوگ وحشی اور گو ہیں کھا کھا کر زندگی بسر کرنے والے ہو۔تمہیں یہ کیا خیال آیا کہ تم ہمارے ملک پر فوج لے کر حملہ آور ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ کہا بالکل ٹھیک ہے، ہم ایسے ہی تھے بلکہ اس سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور اُس نے اپنا نبی بھیج کر ہماری کا یا پلٹ دی ، اب ہر قسم کی عزت خدا تعالیٰ نے ہمیں بخش دی ہے۔کسرای کو یہ جواب سن کر سخت طیش آیا مگر اُس نے کہا میں اب بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ہم سے کچھ روپے لے لو اور چلے جاؤ۔چنانچہ اُس نے تجویز کیا کہ فی افسر دو دو اشرفی اور فی سپاہی ایک ایک اشرفی دیدی جائے۔گویا وہ مسلمان جو فتح کرتے ہوئے عراق تک پہنچ چکے تھے اور جن کی فوجیں ایران میں داخل ہو چکی تھیں اُن کا اُس نے اپنی ذہنیت کے مطابق یہ نہایت ہی گندہ اندازہ لگایا کہ سپاہیوں کو پندرہ اور افسروں کو میں تمہیں روپے دیکر خریدا جا سکتا ہے۔مگر مسلمان اس ذلیل پیشکش کو کب قبول کر سکتے تھے انہوں نے نفرت اور حقارت کے ساتھ اُسے ٹھکرا دیا۔تب کسری کو غصہ آ گیا اور اُس نے اپنے مصاحبوں کو اشارہ کیا کہ مٹی کا ایک بورا بھر کر لاؤ۔تھوڑی دیر میں مٹی کا بورا آ گیا، بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ مسلمانوں کا جو شخص نمائندہ ہے یہ بورا اُس کے سر پر رکھ دیا جائے۔نوکر نے ایسا ہی کیا۔جب بورا اُس صحابی کے سر پر رکھا گیا تو بادشاہ نے کہا چونکہ تم نے ہماری بات نہیں مانی تھی اس لئے جاؤ اس مٹی کے بورے کے سوا اب تمہیں کچھ نہیں مل سکتا۔اللہ تعالیٰ جن کو بڑا بناتا ہے اُن کی عقل بھی تیز کر دیتا ہے ، وہ صحابی فوراً تاڑ گئے کہ یہ ایک مشرک قوم ہے اور مشرک قوم بہت وہمی ہوتی ہے۔انہوں نے اس بورے کو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر رکھا اور اُسے ایڑ لگا کر یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کہ کسری نے اپنا ملک خود ہمارے حوالے کر دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایسا فضل کیا تھا کہ اُن میں سے ہر شخص بادشاہ بن گیا تھا۔