انوارالعلوم (جلد 16) — Page 353
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) زیب وزینت کے سامان (۶) چھٹے میں نے دیکھا کہ مینا بازار میں زینت کے سامان یعنی آئینے اور کنگھیاں اور ربن اور پاؤڈر وغیرہ فروخت ہوتے تھے۔میں نے سوچا کہ یہ تو پرانے زمانے کے مینا بازاروں کی بات ہے، آجکل تو انار کلی اور ڈبی بازار میں پوڈروں اور لپ سٹکوں اور رُوج وغیرہ کی وہ کثرت ہے کہ پرانے مینا بازار ان کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں اور عورتوں کو ان کے بغیر چین ہی نہیں آتا ، گو آجکل کے مرد بھی کچھ کم نہیں اور وہ بھی اپنے بالوں میں مانگ نکال کر اور یو ڈی کلون اور پوڈر وغیرہ چھڑک کر ضرور خوش ہوتے ہیں مگر عورتیں تو اپنی زینت کے لئے ضروری سمجھتی ہیں کہ منہ پر کریم ملیں ، پھر اس پر پوڈر چھڑکیں، پھر لپ سٹک لگائیں پھر رُوج اور عطر وغیرہ استعمال کریں یہاں تک کہ اپنے بچوں کے منہ پر بھی وہ کئی قسم کی کریمیں اور چکنائیاں ملتی رہتی ہیں۔چنانچہ بعض بچوں کو جب پیار کیا جاتا ہے تو ہاتھ پر ضرور کچھ سُرخی ، کچھ چکنائی اور کچھ پوڈر لگ جاتا ہے اور جلد جلد غسلخانہ جانا پڑتا ہے۔پس میں نے کہا آؤ میں دیکھوں کہ آیا یہ چیزیں بھی وہاں ملتی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اگر یہ چیزیں وہاں نہ ہوئیں تو اول تو آجکل کے مرد بھی وہاں جانے سے انکار کر دیں گے ورنہ عورتیں تو ضرور اکڑ کر بیٹھ جائیں گی اور کہیں گی بتاؤ جنت میں سُرخی اور پوڈر ملے گا یا نہیں؟ اگر سرخی ، پوڈر اور کریمیں وغیر ہ ملتی ہوں تو ہم جانے کے لئے تیار ہیں ورنہ نہیں۔زینت کے لئے سب سے پہلی چیز ذاتی خوبصورتی ہے مگر کئی عورتیں اس کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور وہ خیال کرتی ہیں کہ شاید پوڈر مل کر وہ اچھی معلوم ہونے لگیں گی اور بیوقوفی سے زیادہ سے زیادہ پوڈر ملنے کو وہ حسن کی ضمانت سمجھتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انہوں نے پوڈر ملا ہوا ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا انہوں نے آٹے کی بوری جھاڑی ہے۔انگریزوں کا رنگ چونکہ سفید ہے اس لئے اُن کے چہروں پر پوڈر بدزیب معلوم نہیں ہوتا ،مگر ہمارے ملک میں نقل چونکہ عقل کے بغیر کی جاتی ہے، اس لئے اندھا دھند انگریزوں کی اتباع میں پوڈر کے ڈبے صرف کر دیئے جاتے ہیں۔اور کئی تو بے چارے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر کہ شاید اُن کا رنگ سفید ہو جائے ، صابن کی کئی کئی ٹکیاں خرچ کر دیتے ہیں اور اپنا منہ خوب کل مل کر دھوتے ہیں مگر جو رنگ قدرتی طور پر سیاہ ہو وہ سفید کس طرح ہو جائے۔سیاہ اور بدنما چہرہ کو خوبصورت بنانے کا نسخہ ایک دفعہ ایک اینگلو انڈین استانی میرے پاس آئی وہ چاہتی تھی کہ