انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 340

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ تو دیکھو دونوں ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا ، گرمی دور کرنے کے لئے مؤمنوں کو ایسے پیالے پلانے کا انتظام کر دیا جو کا فوری مزاج والے ہوں گے اور سردی کے اثرات کو دور کرنے کے لئے ایسے پیالے پلانے کا انتظام فرما دیا جو زنجبیلی مزاج والے ہوں گے۔پھر اس کی وجہ بھی بتا دی کہ کا فوری پیالوں کی کیوں ضرورت ہوگی اور زنجبیلی پیالوں کی کیوں؟ کا فوری پیالوں کی تو اس لئے ضرورت ہوگی کہ مؤمن خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتے تھے اور اُن کے دل و دماغ میں گھبراہٹ رہتی تھی کہ نہ معلوم وہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے مقام کو حاصل کرتے ہیں یا نہیں ، اس لئے اگلے جہاں میں انہیں تسکین کے لئے کا فوری پیالے پلائے جائیں گے اور زنجبیلی پیالے اس لئے پلائے جائیں گے کہ انہوں نے دین کے لئے گرمی دکھائی تھی اور بے تاب ہو کر اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلتے رہے تھے ، اس لئے جب اُن کو گرمی کی ضرورت ہوگی انہیں گرمی پیدا کرنے کے سامان دیئے جائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں لوگوں کو نکتا بنا کر نہیں بٹھا دیا جائے گا بلکہ اُن کی ساری لذت ہی کام میں ہوگی اور انہیں زنجبیلی پیالے پلائے جائیں گے تا کہ اُن میں کام کی اور زیادہ قوت پیدا ہو۔پس یہ خیال غلط ہے جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ جنت میں کوئی کام نہیں ہو گا ، اگر ایسا ہی ہو تو ایک ایک منٹ جنتیوں کے لئے مصیبت بن جائے۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے إِنَّ هَذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا ٣٨ چونکہ تم نے دنیا میں بڑے بڑے نیک اعمال کئے تھے اس لئے تمہارے اُن کا موں کو قائم رکھنے اور تمہاری ہمتوں کو تیز کرنے کے لئے زنجبیلی پیالے پلائے جائیں گے تاکہ تم میں نیکی، تقویٰ اور قوت عمل اور بھی بڑھے اور تا تم پہلے سے بھی زیادہ ذکر الہی کرو پس جنت مکلموں کی جگہ نہیں بلکہ اس دنیا سے زیادہ کام کرنے کی جگہ ہے۔شیریں چشمے پھر میں نے ایک اور فرق دیکھا کہ دُنیوی مینا بازاروں کا کام تو ختم ہو جاتا تھا گلاس پیا اور ختم۔بعض دفعہ کہا جاتا شربت کیوڑہ دو تو جواب ملتا کہ شربت کیوڑہ ختم ہو چکا ہے، بعض دفعہ برف مانگی جاتی تو کہہ دیا جاتا کہ برف ختم ہو گئی ہے۔اسی طرح بعض مذہبی آدمی زمزم کا پانی یا گنگا جل بوتلوں میں بھر کر لاتے ہیں وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔لیکن یہ آسمانی پانی نرالا تھا جو ختم ہی نہ ہوتا تھا بلکہ اُس کے چشمے پھوڑے گئے تھے چنانچہ فرماتا ہے يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَّعِينٍ وہاں ان کو ایسے بھرے ہوئے پیالے