انوارالعلوم (جلد 16) — Page 296
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ کچھ بھی نظر نہیں آتا اور نہ ان مقبروں میں کوئی باہمی تو ازن دکھائی دیتا ہے۔مثلاً بعض ادنی درجہ کے لوگ نہایت اعلیٰ مقبروں میں تھے اور بعض اعلیٰ درجے کے لوگ نہایت ادنی مقبروں میں تھے۔اسی طرح جو ڈ نیوی لوگ ہیں اور جو روحانی لحاظ سے ادنی سمجھے جاتے ہیں ، مجھے نظر آیا کہ ان ڈ نیوی لوگوں کے مقبرے تو بڑے اعلیٰ ہیں مگر وہ روحانی لوگ جو سردار تھے بادشاہوں کے، اور سردار تھے وزیروں کے، ان کے مقبرے نہایت ادنی ہیں۔پھر مجھے حیرت ہوئی کہ نہ صرف ان کے مقبرے دوسروں کے مقابل میں نہایت ادنی ہیں بلکہ جس صورت میں بھی ہیں وہ اس شخص کے مذہب اور عقیدہ کے خلاف ہیں جس کی غلامی اختیار کر کے انہوں نے دنیا میں عزت حاصل کی۔چنانچہ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور بعض دوسرے بزرگوں کی قبروں پر فرش ہے اور بعض کے ارد گرد سنگ مرمر کے کٹہرے ہیں اور یہ چیزیں ہماری شریعت میں جائز نہیں۔پس مجھے حیرت ہوئی کہ اوّل تو ظاہری لحاظ سے مقبروں میں کوئی نسبت ہی قائم نہیں بعض ادنی لوگوں کے اعلیٰ مقبرے ہیں اور بعض اعلیٰ کے ادنی۔اور پھر روحانی لوگوں کے جو مقبرے ہیں اول تو وہ جسمانی بادشاہوں کے مقابر سے ادنیٰ ہیں حالانکہ وہ ان بادشاہوں کے بھی سردار تھے پھر جو کچھ بھی ظاہر میں ہے وہ ان کے اپنے اصول اور دین کے خلاف ہے۔گویا ان کے مقبرے ایک طرف اپنے غلاموں سے بھی ادنی تھے اور دوسری طرف ان کے اپنے آقا کے حکم کے خلاف تھے اور اس طرح ان میں کوئی بھی جوڑا اور مناسبت دکھائی نہیں دیتی تھی۔پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ کوئی انصاف کی تقسیم نہیں۔ہمایوں جو مغلیہ خاندان کا ایک مشہور بادشاہ، ہندوستان کا فاتح اور اکبر کا باپ تھا اُس کے مقبرہ کا اگر شاہجہان کے مقبرہ سے مقابلہ کیا جائے تو ان دونوں میں کوئی بھی نسبت دکھائی نہیں دیتی۔وہ شخص جس نے مغلیہ سلطنت کی بنیادوں کو مضبوط کیا ، جس نے ہندوستان کو فتح کیا اور جس کا بیٹا آگے اکبر جیسا ہوا اُس کا مقبرہ تو بہت ادنی ہے مگر شاہجہان جو اُس کا پڑپوتا ہے اُس کا مقبرہ بہت اعلیٰ ہے۔پھر شاہجہان کے مقبرہ کے مقابلہ میں جہانگیر کے مقبرہ کی کوئی حیثیت نہیں اور اور نگ زیب جو ظاہری حکومت کے لحاظ سے بڑا تھا اُس کا مقبرہ ان دونوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔پھر ان کے مقابلہ میں خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کا کی اور خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کے مقبروں کی کوئی حیثیت نہ تھی اور ان دونوں کے مقابلہ میں خواجہ باقی باللہ ، خواجہ میر درد ، شاہ ولی اللہ اور مرزا مظہر جان جاناں کی قبروں کو کوئی نسبت نہ تھی بلکہ کسی نے ان کا مقبرہ بنانے کی کوشش بھی نہیں کی مگر جیسا کہ میں نے