انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 280

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ جماعت میں ایسا رخنہ پیدا کرنے کا موجب بھی ہو جایا کرتی ہے جو تباہی کا باعث ہوتا ہے۔جماعت اگر کروڑ دو کروڑ بھی ہو جائے اور اس میں دس لاکھ منافق ہوں تو بھی اس میں اتنی طاقت نہیں ہو سکتی جتنی کہ اگر دس ہزار مخلص ہوں تو ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چند صحابہ نے جو کام کئے وہ آج چالیس کروڑ مسلمان بھی نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد سات سو تھی۔صحابہ نے خیال کیا کہ شاید آپ نے اس واسطے مردم شماری کرائی ہے کہ آپ کو خیال ہے کہ دشمن ہمیں تباہ نہ کر دے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا اب بھی یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ہمیں تباہ کر سکے گا۔یہ کیا شاندار ایمان تھا کہ وہ سات سو ہوتے ہوئے یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن انہیں تباہ کر سکے گا مگر آج صرف ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں مگر حالت یہ ہے کہ جس سے بھی بات کرو اندر سے کھوکھلا معلوم ہوتا ہے اور سب ڈر رہے ہیں کہ معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔گجا تو سات سو میں اتنی جرات تھی اور کجا آج سات کروڑ بلکہ دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں مگر سب ڈر رہے ہیں اور یہ ایمان کی کمی کی وجہ سے ہے جس کے اندر ایمان ہوتا ہے وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا۔ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے ایک دفعہ آپ گورداسپور میں تھے میں وہاں تو تھا مگر اس مجلس میں نہ تھا جس میں یہ واقعہ ہوا۔مجھے ایک دوست نے جو اس مجلس میں تھے سنایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دوسرے احمدی بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے لا ہور گیا تھا آریوں نے اُس پر بہت زور دیا کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں ان کو ضرور سزا دے دو خواہ ایک ہی دن کی کیوں نہ ہو، یہ تمہاری قومی خدمت ہوگی اور وہ ان سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ میں ضرور سزا دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپ لیٹے ہوئے تھے یہ سنکر آپ کہنی کے بل ایک پہلو پر ہو گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔کیا کوئی خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزا دی کہ پہلے تو اُس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا اور پھر اُس کا تنزّل ہو گیا یعنی وہ ای اے سی سے منصف بنا دیا گیا اور فیصلہ دوسرے مجسٹریٹ نے آکر کیا تو ایمان کی طاقت بڑی زبردست ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اس صورت میں فائدہ ہو