انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 278

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور تصدیق کرتے ہیں کہ انگریزوں کی طرف سے جو جواب دیا جاتا ہے وہ صحیح ہے ہاں اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے تو بھی صاف کہہ دیں کہ مسلمانوں کی کوئی پروا نہ کی جائے گی۔اکثریت کی حکومت ہوگی بہر حال انہیں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنی چاہئے۔ہم نے کانگرس سے دریافت کیا تھا کہ آیا کانگرسی حکومت میں تبلیغ اور تبدیلی مذہب کی اجازت ہوگی اس کا جواب یہ ملا کہ فلاں ریزولیوشن دیکھو۔ہم نے لکھا کہ اس کے معنی ہم پر واضح نہیں ہیں وضاحت سے بتایا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ ہم کسی ریزولیوشن کے معنے کرنے کے مجاز نہیں ہیں تو یہ کتنی دھوکا بازی ہے کہ صفائی سے کوئی بات کی ہی نہیں جاتی۔تیسرا فریق مسلم لیگ ہے۔وہ کہتی ہے کہ جب تک اس کے ساتھ کانگرس کوئی فیصلہ نہ کرے کوئی حقوق ملک کو نہ دیئے جائیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ راضی نہ ہوں تو سارا ملک ہی حقوق سے محروم رہے؟ اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر تو اقلیتیں سب کچھ ہی ٹوٹنے کی کوشش کریں گی کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ ہماری رضامندی کے بغیر تو کوئی قوم بھی کچھ نہیں لے سکتی اس لئے لازمی طور پر ہمیں راضی کیا جائے گا اور یہ کہاں کی دیانتداری ہے پھر میں نے دیکھا ہے کہ اسمبلیوں میں مسلم لیگ کے ممبر زیادہ تر آزادی کے حق میں اور گورنمنٹ کے خلاف ہی رائے دیتے ہیں اور مسلم لیگ پارٹی کوشش کرتی ہے کہ ہر ایک معاملہ میں گورنمنٹ کو شکست دلوائے اور اس طرح وہ اعلانیہ کانگرس کے مطالبہ کی تائید کرتی ہے۔پس مسلم لیگ کا یہ مطالبہ کہ جب تک وہ راضی نہ ہو ملک کو کوئی حقوق ہی نہ دیئے جائیں ایسا ہے کہ زیادہ دیر تک اصلاحات میں تعویق ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔یہ ایسی اُلجھن ہے کہ اسے دُور کرنا حکومت کا فرض ہے اور ہند و مسلمانوں کے سمجھوتہ کو جو وہ روک ظاہر کر رہی ہے وہ بالکل نا مناسب ہے۔مانٹیگو چیمسفورڈ سکیم جب نافذ کی گئی اُس وقت بھی ہند و مسلمان متحد و متفق نہ تھے۔پھر جب راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے نتیجہ میں ہندوستان کو کچھ مزید حقوق دیئے گئے اُس وقت بھی ان میں سے کوئی راضی نہ تھا اور ان موقعوں پر حکومت نے ہندوستان کو حقوق دے کر عملاً بتا دیا کہ وہ ہند و مسلمانوں کے سمجھوتہ کے بغیر بھی حقوق دینے کو تیار ہے اس لئے جو جواب وہ اس وقت دے رہی ہے وہ معقول تصور نہیں کیا جاسکتا۔اور موجودہ اُلجھن کا یہی حل ہے کہ حکومت جو کچھ دینا چاہتی ہے اس کا اعلان کر دے۔اس سے قبل حکومت ثالث کی حیثیت اپنے لئے قبول کر چکی ہے اور اس نے اس حیثیت سے دو فیصلے کئے ہیں اور اسی طرح اب تیسرا بھی کر سکتی ہے۔