انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 12

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب ہے۔مگر اس میں بھی عورت کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ پانی پلا سکتی ہے، مرہم پٹی کر سکتی ہے اور زخمیوں کی خدمت کر سکتی ہے۔چنانچہ حضرت بلال کی بہن نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اس بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا کام مرہم پٹی کرنا اور کھانا وغیرہ تیار کرنا ہے۔پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت میں بھی عورت اور مرد کو برابر حصہ دیا ہے۔صرف عورتوں کو لڑائی کے میدان سے الگ رکھا ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ ان کا پردہ قائم رہے۔اگر وہ بھی لڑائی میں شامل ہوں تو نتیجہ یہ ہو کہ دشمن انہیں قید کر کے لے جائے کیونکہ جب دو ملک آپس میں لڑتے ہیں تو لڑنے والوں میں سے کئی لوگوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ان کو جہاد سے الگ کر دیا اور مرہم پٹی کا کام ان کے سپرد کر دیا۔اگر عورتیں لڑائی میں حصہ لیتیں تو لازماً ان کو بھی قید کیا جاتا۔پس ان کی عزت قائم رکھنے کے لئے انہیں لڑائی میں شامل ہونے سے روک دیا ورنہ دنیا میں ایسی ایسی عورتیں گزری ہیں جو بڑے بڑے جرنیلوں سے مقابلہ کرتی رہی ہیں۔مثلاً چاند بی بی نے بہت سے کارنامے دکھائے ہیں۔حضرت ضرار کی بہن نے بھی کئی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ایک دفعہ عیسائی لشکر کا بہت زیادہ دباؤ پڑا اتنا کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔ضرار کی بہن نے ہندہ کو آواز دی کہ ہندہ نکلو یہ مرد لڑنے کے قابل نہیں ہم لڑیں گی۔انہوں نے خیمے اُکھاڑ کر ڈنڈے ہاتھ میں لے لئے اور ان کے گھوڑوں کو مارنے لگیں۔ابوسفیان نے اپنے بیٹے معاویہ سے کہا ” ان عورتوں کی تلوار میں عیسائیوں کی تلواروں سے زیادہ سخت ہیں۔میں مرنا پسند کروں گا لیکن پیچھے نہیں لوٹوں گا، چنانچہ سب کے سب میدان جنگ میں کوٹ آئے۔تو عورت لڑ بھی سکتی ہے مگر جولڑے اس کے قید ہونے کا بھی چونکہ احتمال ہوتا ہے " اس لئے اسلام یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ مسلمان عورت غیر کے ہاں جائے۔پھر جہاد کے علاوہ ایک اور بات بھی ایسی ہے جس میں یہ امتیاز پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ مرد نبی ہوسکتا ہے لیکن عورت نبی نہیں ہو سکتی۔البتہ صدیق کا درجہ جو نبوت سے اتر کر دوسرا مقام ہے عورت کو مل سکتا ہے۔تم نے سنا ہو گا کہ حضرت ابو بکر کو ابو بکر صدیق کہا جاتا ہے۔اسی طرح کہا جاتا ہے مریم صدیقہ۔عائشہ صدیقہ۔گویا جو درجہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو دیا وہی عورتوں کو دیا۔اسی طرح شہادت کا درجہ بھی عورت کو مل سکتا ہے۔کوئی عورت اگر زچگی کی تکلیف سے مر جائے تو شہید ہو گی کیونکہ وہ نسلِ انسانی کے چلانے کا کام کر رہی تھی۔اسی طرح عورت صالح بھی ہو سکتی ہے صرف نبوت کا درجہ عورت کو نہیں مل سکتا۔لیکن نبی کو جو جنت میں انعام ملے گا اس میں عورت