انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 264

انوار العلوم جلد ۱۶ ضروری ہے۔بعض اہم اور ضروری امور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ رستم کے گھر میں چور آ گیا۔رستم بے شک بہت بہادر تھا مگر اس کی شہرت فنونِ جنگ میں تھی ضروری نہ تھا کہ کشتی کے فن میں بھی ہر ایک سے بڑھ کر ہو۔چور کشتی لڑنا جانتا تھا اور اس نے رستم کو نیچے گرا دیا۔جب رستم نے دیکھا کہ اب تو میں مارا جاؤں گا تو اُس نے کہا آ گیا رستم۔چور نے جب یہ آواز سنی تو وہ فوراً اُسے چھوڑ کر بھا گا۔غرض چور رستم کے ساتھ تو لڑتا رہا بلکہ اُسے نیچے گرا لیا مگر رستم کے نام سے ڈر کر بھاگا۔کسی آدمی کے گھر کو آگ لگی ہو تو اُس پر اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا یہ خبرسن کر کہ اُس کے گھر کو آگ لگی ہے۔غلط افواہوں کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ریکروٹنگ کا کام بند ہو جاتا ہے۔اس وقت قریباً ہر شخص کے عزیز جنگ پر گئے ہوئے ہیں اور ہر شخص دعا کرتا ہے کہ وہ بیچ کر آجائیں۔مگر یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ وہ بیچ اسی صورت میں سکتے ہیں کہ ان کے پیچھے بھی بندوق والے سپاہی جائیں جو انکی مدد کریں ورنہ وہ کیسے بیچ سکتے ہیں اور غلط افواہوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اور سپاہی پیچھے سے نہ جائیں گے۔پس جو شخص غلط افواہوں کو پھیلنے دیتا ہے وہ گویا خود اپنے عزیزوں کو جو میدانِ جنگ میں ہیں مرواتا ہے۔پس آپ لوگ غلط افواہوں کو روکیں تا ریکروٹنگ کا کام بند نہ ہوا اور آپ کے بھائی بندوں کے پیچھے اور بندوقوں والے سپاہی پہنچتے رہیں جو ان کو بچا سکیں۔جنگ میں امداد کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ملک میں امن قائم رکھا جائے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے وقت میں شریروں کے حوصلے بہت بڑھ جاتے ہیں اور وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اب انگریز گئے اس جنگ میں اب تک کوئی بھی شکست انگریزوں کو ایسی نہیں ہوئی جس کے بعد ایسے لوگوں نے یہ نہ کہنا شروع کر دیا ہو کہ بس اب انگریز گئے اور بعض نادان غیر احمدیوں کے بارہ میں میں نے یہاں تک سنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ انگریز جائیں تو ہم سرحدی پٹھانوں کو لا کر احمد یوں کو سزا دلوائیں گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کیا ہو گا لیکن اس میں شک نہیں کہ ایسی باتوں سے فسادات ضرور ہو جاتے ہیں اور اس لئے یہ نہایت خطرناک ہوتی ہیں۔ہر قوم کے شریروں میں اس قسم کے جذبات ہوتے ہیں۔ہندوؤں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو نکال دیں گے اور مسلمانوں میں بھی ہیں۔اور ایسے لوگ اپنی قوم کے ادنیٰ لوگ ہوتے ہیں شریف ہند و یا شریف مسلمان نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کو غلط افواہوں سے مدد ملتی ہے اور یہ ایسے موقع کی۔