انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 251

0 بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ خرچ کے میں دے دوں گا اور ایک حصہ وہ دے دیں اور پھر خرچ کے مطابق کتابیں بانٹ لیں لیکن اس کو بھی انہوں نے قبول نہ کیا اور عُذر یہ کیا کہ اخبارات میں اس قدر لمبے مضامین شائع نہیں ہو سکتے حالانکہ میری دوسری تجویز کتابی صورت میں شائع کرنے کی موجود تھی اگر سچ کا اظہار مقصود ہو تو پھر مضمون کے لمبا اور چھوٹا ہونے کا سوال ہی کیا ہے۔جب میں نے خرچ دو حصے دینا ہے تو کیا میں پاگل ہوں کہ خواہ مخواہ طول دوں اور بلا ضرورت مضمون کو لمبا کروں اور اس طرح اپنا خرچ زیادہ کراؤں۔وہ کہتے ہیں مضامین کے الفاظ کی تعداد معین ہونی چاہئے۔لیکن اگر اتنے الفاظ کے استعمال سے صداقت پوری طرح ظاہر نہ ہو سکے تو پھر فائدہ کیا ؟ مقصد تو صداقت کا اظہار کرنا ہے۔وہ بھی جتنے صفحات چاہیں لکھیں خواہ پچاس ہزار لکھیں اور میں بھی جتنے ضروری سمجھوں لکھوں ان کو کیا ڈر ہے اگر میرا مضمون زیادہ لمبا ہو گا تو وقت اور روپیہ کا خرچ بھی تو میرا ہی بڑھے گا کیونکہ میں نے دو حصے دینے ہیں اور انہوں نے ایک۔میں نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ان کو دعوت دی تھی کہ قادیان میں آکر لیکچر دے لیں مگر ان کا اصرار ہے کہ جلسہ کے دنوں میں ان کو موقع دیا جائے حالانکہ جلسہ کے موقع پر جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ ان کی تقریریں سننے کے لئے اتنا خرچ نہیں کرتے۔اس سال جلسہ پر آنے میں بہت سی مجبوریاں تھیں مگر پھر بھی سوائے آخری کونوں کی تھوڑی تھوڑی جگہ کے سب جلسہ گاہ بھری ہوئی ہے۔حالانکہ اسے برا ہم فٹ بڑھایا گیا تھا۔جو بلی کے موقع پر اسے بہت بڑھا دیا گیا تھا اور امید تھی کہ شاید یہ بہت دیر تک کافی ہوگی مگر اس سال پھر بڑھائی گئی اور آج آپ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ بھی سوائے کناروں پر چند فٹ جگہ کے سب بھری ہوئی ہے۔پس اتنی کثیر تعداد میں اتنا خرچ کر کے اور تکلیف اُٹھا کر جو لوگ یہاں آئے ہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں مولوی محمد علی صاحب کو خوش کرنے کے لئے ان سب کو ان کے مقاصد سے محروم کر دیتا۔تاہم میں نے کہہ دیا کہ اگر وہ جلسہ پر ہی تقریر کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی خاطر جلسے کے دو دن بڑھا دیں گے مگر یہ چونکہ ان کی خاطر بڑھائے جائیں گے۔اس لئے ان دو دنوں کا خرچ وہ دے دیں مگر وہ یہ بھی نہیں مانتے۔غرض جس رنگ میں بھی ان کے ساتھ انصاف سے سلوک کیا جا سکتا تھا میں نے کر دیا اور آج پھر اس بات کو واضح کرنے کے لئے میں اسے جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں اگر آپ لوگ جلسہ کے موقع پر ان کی تقریریں سننا چاہتے ہیں تو بتا دیں میں گل کا دن انہیں دے سکتا ہوں اور ابھی تار دے کر ان کو بلا لیتا ہوں ( اس پر سب احباب نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم ان کی کوئی بات