انوارالعلوم (جلد 16) — Page 168
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبین اور امام وقت۔۔کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جُدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نبی اللہ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے۔اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر وتبدل کر دے گا۔پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے۔‘۳۹ ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ پر حقیقی نبی سے وہ مراد لیتے ہیں کہ جو نئی شریعت لانے کا مدعی ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے بغیر براہِ راست نبوت پانے کا مدعی ہو۔اور اس تعریف کو مدنظر رکھ کر اپنے لئے احادیث یا اپنے الہاموں میں لفظ نبی کو ایک استعارہ قرار دیتے ہیں۔یعنی اگر نبوت حقیقی کی یہ تشریح ہو تو آپ ایسے نبی ہرگز نہیں بلکہ اس صورت میں آپ کے لئے نبی کا لفظ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔اور اس مضمون کا ہم نے کبھی انکار نہیں کیا اور اسے ہمیشہ سے درست اور صحیح تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقی نبوت کی یہ تشریح قرآن کریم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا انبیائے سابقین یا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے؟ یا صرف لوگوں میں مشہور ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعریف حقیقی نبوت کی وہ ہے جو اس وقت کے مسلمانوں میں رائج ہے اور چونکہ داعی مخاطبین کے خیالات کا خیال رکھتا ہے تا کہ انہیں دھوکا نہ لگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تعریف کے ماتحت اپنے حقیقی نبی ہونے کا انکار کیا ہے کیونکہ اگر آپ بغیر اس تشریح کے اپنے آپ کو نبی کہتے تو یقیناً لوگوں کو دھوکا لگتا اور وہ لوگ جو پہلے ہی اپنے علماء سے یہ سنتے چلے آرہے تھے کہ یه شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے اور قرآن کریم کو نَعُوذُ بِاللهِ منسوخ کر رہا ہے اور اپنا کلمہ لوگوں سے پڑھواتا ہے وہ دھوکا کھا جاتے اور ہدایت پانا ان کے لئے مشکل ہو جاتا۔پس آپ نے اس طرح ان لوگوں کو دھوکا سے بچایا اور ہدایت کا پانا ان کے لئے آسان کر دیا۔یہ خیال کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی نئی شریعت قائم کی ہے علماء کی طرف سے اس قدر پھیلایا گیا ہے کہ اب تک کہ پچاس سال سلسلہ کو قائم ہوئے ہو گئے ہیں اس کا اثر بعض لوگوں کے دلوں پر موجود ہے۔چنانچہ دو سال کی بات ہے کہ میں حیدر آباد سے آتے ہوئے دہلی میں ایک دو روز کے لئے ٹھہرا۔تو جناب خواجہ سید حسن نظامی صاحب نے میری شام کی دعوت کی۔چونکہ اُسی دن روزے شروع ہوئے تھے انہوں نے مقامی لوگوں کو مد نظر رکھتے