انوارالعلوم (جلد 16) — Page 167
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔قائم ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہرگز کوئی نئی شریعت نہیں لائے بلکہ قرآن کریم کی تعلیم کے قیام کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور آپ کی نبوت سابق انبیاء کی طرح براہ راست حاصل ہونے والی نبوت نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شاگردی اور آپ کے فیضان کی وجہ سے آپ کو نبوت ملی ہے اور آپ امتی نبی ہیں۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں ہو کر آپ کو یہ مقام حاصل ہوا ہے۔اس کے سوا کسی نبوت کے نہ ہم قائل ہیں اور نہ اسے جائز سمجھتے ہیں۔نہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی شخص قرآن کریم کے نزول کے بعد کوئی ایسی وحی پاسکتا ہے جو قرآن کریم کے خلاف ہو یا اس پر کچھ زائد کرنے والی ہو۔اور نہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے فیضان کے بغیر نبوت حاصل کرنے والا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آ سکتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم مسیح یا کسی اور نبی کے دوبارہ دنیا میں آنے کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور اسے ختم نبوت کے منافی سمجھتے ہیں۔اس امر کا ثبوت کہ اوپر کے حقیقی نبوت سے مراد شریعتِ جدیدہ کی حامل نبوت ہے حوالوں میں حقیقی نبوت سے مراد وہی نبوت ہے جو شریعت جدیدہ کی حامل ہو اور براہ راست حاصل ہو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے نکلتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- "وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُولِنَا وَ سَيِّدِنَا إِنِّي نَبِيٌّ أَوْ رَسُولٌ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ وَالْإِفْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَ أَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرٌ كَذَّابٌ، ۳۸ یعنی جو شخص ہمارے رسول اللہ اور آقا کے بعد یہ دعوی کرے کہ وہ علی وجہ الحقیقت نبی ہے اور افتراء سے کام لے اور قرآن اور احکام شریعت عالیہ کا انکار کرے وہ کافر اور کذاب ہے۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقی نبی کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا مدعی ہو اور قرآن کریم کو چھوڑ دینے کی تعلیم دے۔اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی نبوت کا نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا ہے اور نہ ہم آپ کو ایسا نبی مانتے ہیں بلکہ ایسے مدعی کو آپ کی اتباع میں کا فرو کذاب سمجھتے ہیں۔اسی حوالہ کے آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اردو میں تحریر فرماتے ہیں:۔د غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ