انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 153

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے اور ملنا اور کتابیں پڑھنا ایک ہی جیسا ہے تو کیا آپ کہیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ڈرتے تھے کہ چکڑالویوں کے ز بر دست دلائل سے کہیں ہماری جماعت مرتد نہ ہو جائے اور آپ ان کو پہلوان نہیں بنانا چاہتے تھے؟ ایک اور واقعہ بھی ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کی شہادت اس امر کی تصدیق میں ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو ایک دفعہ الہام ہوا تھا کہ فلاں برہموں کی کتاب نہ پڑھنا۔اب کیا خدا تعالیٰ بھی ڈرتا تھا یا مولوی صاحب کا ایمان کمزور تھا ؟ نَعُوذُ بِاللهِ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتب ایسے پیرا یہ میں لکھی ہوئی تھیں کہ ان سے سادہ لوحوں کو دھوکا لگنے کا اندیشہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو بذریعہ الہام روک دیا تا آپ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جو اہلیت نہیں رکھتے نہ پڑھنے لگیں اس واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان لوگوں کو بھی جو مخالفین کو جواب دیتے ہیں۔مصلحتا روک دیا جاتا ہے۔مولوی صاحب! یہ تینوں واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آپ کا اعتراض مجھ پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور حضرت مسیح موعود پر ہے اور میں ایک اور بات بھی پوچھتا ہوں کہ مہربانی فرما کر آپ مجھے اپنا بھی وہ اعلان دکھا ئیں جس میں آپ نے حکماً اپنے ہم خیالوں کو لکھا ہو کہ وہ میری سب کتب اور رسالہ جات اور اشتہارات کو مطالعہ کر کے حق کا فیصلہ کریں۔اگر آپ نے بھی ایسا نہیں کیا تو مجھ پر کیا گلہ ہے۔اگر فرما دیں کہ میں نے کب روکا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے بھی تو کبھی نہیں روکا۔ہاں میرے نزدیک مخالف کی کتب پڑھنے کے متعلق مذکورہ بالا شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ میرے اکثر مریدان کے پابند ہیں۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔چنانچہ آسانی سے اس کا علم اس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ مہربانی فرما کر اپنے ہم خیالوں میں سے ان لوگوں کی ایک فہرست شائع کر دیں کہ جنہوں نے ہماری کتب کا مطالعہ کیا ہو اور ہر ایک کے