انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 146

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ اس زمانہ میں ضرور باغی اور طافی تھے پس معاویہ کی مشابہت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی گویا کسی وقت باغی اور طاغی رہے تھے۔نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِکَ۔جناب مولوی محمد علی صاحب کے اس طرح ان لوگوں کی پیٹھ ٹھونکنے کا کیا نتیجہ نکلا ؟ وہ مندرجہ ذیل حوالہ سے ظاہر ہے جب مولوی صاحب نے اپنے رفقاء کی اس گالی گلوچ کی جی بھر کر داد دی اور اپنے نزدیک ان کے اس فعل کو مستحسن اور عین مطابق اسلام ثابت کر دیا تو پھر ان کے اتباع کیوں نہ اس حملہ میں اور دلیر ہو کر اپنے امیر کی داد کے طالب ہوتے۔چنانچہ مولوی صاحب کی یزید کے لقب کی تشریح کے بعد انجمن احمد یہ اشاعت اسلام کے ایک پروفیسر اور مبلغ مولوی احمد یار صاحب نے اپنے ایک مضمون میں ذیل کے فقرات لکھے :- عبارت بالا سے کم از کم دو باتیں نہایت واضح طور پر معلوم ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ حضرت مرزا صاحب سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے مشابہت رکھتے ہیں۔دوسری یہ کہ قادیان نے بوجہ دمشق کے مشابہہ ہونے کے کسی یزیدی الصفت خلیفہ کا پایہ تخت ہونا ہے جو قسم قسم کے جھوٹے منصوبے باندھے گا اور ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ کرے گا۔“ پھر لکھا ہے کہ : - ایسا ہونا ضروری تھا تا کہ حضرت مسیح موعود کی مشابہت حضرت امام حسین کے ساتھ اور قادیان کی دمشق کے ساتھ بالکل مکمل طور پر پوری ہو جائے۔اگر قادیانی خلیفہ اور اس کے رفیق کا رایسی سازشیں اور نازیبا حرکات نہ کرتے جس سے جماعت لاہور کے پاک ممبروں کو مجبوراً قادیان چھوڑنا پڑا تو پھر قادیان دمشق کے مشابہہ اور یزید کا پایہ تخت کیسے بنتا ؟ یہ حوالہ اپنی حقیقت کا آپ مظہر ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس مبلغ اسلام کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشابہ بہ حسین تھے اور دوسرے یہ کہ قادیان دمشق ہے اور اس نے ا ایک یزیدی الصفت کا (جو بقول صاحب مضمون اس امام حسین کا بیٹا ہے ) پایہ تخت ہونا تھا۔تیسرے یہ کہ میں قسم قسم کے جھوٹے منصوبے باندھتا ہوں اور ہزار ہا ظالمانہ احکام جاری کرتا ہوں۔چوتھے یہ کہ لاہور کے پاک ممبران کو میری اور میرے رفقاء کار کی سازشوں اور نازیبا حرکات کی وجہ سے قادیان چھوڑنا پڑا اور پانچویں یہ کہ قادیان یزید کا پایہ تخت ہے۔