انوارالعلوم (جلد 16) — Page 130
انوار العلوم جلد ۱۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عراق کے حالات پر آل انڈیا ریڈیو سے تقریر نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ عراق کے حالات پر آل انڈیاریڈیو اسٹیشن لاہور سے تقریر تقریر فرموده مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۴۱ء بوقت ۸:۵۰ صبح) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - عراق کی موجودہ شورش دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھی اور ہندوستانیوں کے لئے بھی تشویش کا موجب ہو رہی ہے۔عراق کا دارالخلافہ بغداد اور اس کی بندرگاہ بصرہ اور اس کے تیل کے چشموں کا مرکز موصل ایسے مقامات ہیں جن کے نام سے ایک مسلمان اپنے بچپن سے ہی روشناس ہو جاتا ہے۔بنو عباس کی حکومت علوم وفنون کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے طبعا مسلمانوں کے لئے ایک خوشکن یادگار ہے لیکن الف لیلہ جو عربی علوم کی طرف توجہ کرنے والے بچوں کی بہترین دوست ہے اس نے تو بغداد اور بصرہ اور موصل کو ان سے اس طرح روشناس کر رکھا ہے کہ آنکھیں بند کرتے ہی بغداد کے بازار اور بصرہ کی گلیاں اور موصل کی سرائیں ان کے سامنے اس طرح آکھڑی ہوتی ہیں گویا کہ انہوں نے ساری عمر انہیں میں بسر کی ہے۔میں اپنی نسبت تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بچپن میں بغداد اور بصرہ مجھے لندن اور پیرس سے کہیں زیادہ دلکش نظر آیا کرتے تھے کیونکہ اول الذکر میرے علم کی دیواروں کے اندر بند تھے اور ثانی الذکر میری قوتِ واہمہ کے ساتھ تمام عالم میں پرواز کرتے نظر آتے تھے۔جب ذرا بڑے ہوئے تو علم حدیث نے امام احمد بن حنبل کو ، فقہ نے امام ابو حنیفہ اور امام یوسف کو ، تصوف نے جنید ، شبلی اور سید عبدالقادر جیلانی کو، تاریخ نے عبدالرحمن ابن قیم کو علم التدریس نے نظام الدین طوسی کو ، ادب نے مبر دسیبویہ، جریر اور فرزدق کو، سیاست نے ہارون، مامون اور ملک شاہ جیسے لوگوں کو جو اپنے اپنے دائرہ میں یاد گارِ زمانہ تھے اور ہیں ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے لا کر اس طرح کھڑا کیا کہ اس