انوارالعلوم (جلد 15) — Page 38
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ایک نبی کو کہتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں یہ زمین و آسمان نہ بناتا۔اور اس کے بعد ایک دوسرے نبی کو کہتا ہے کہ اگر تُو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو نہ بنا تا پس یہ امر واضح ہے کہ اس آسمان وزمین سے مرادر وحانی نظام ہے جو اس نبی کے ذریعہ سے دنیا میں قائم کیا جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نبی جس کے ذریعہ ایسا انقلاب کیا گیا ہے اسے ایسا ہی الہام ہوا ہوگا۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سارے زمانوں اور سب انسانوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اس لئے آپ کے لئے یہ الہام سب زمانہ کو مد نظر رکھ کر سمجھا جائے گا اور باقی نبیوں کے لئے مخصوص الزمان اور مخصوص المقام سمجھا جائے گا۔زمین و آسمان کے یہ معنی جو میں نے کئے ہیں انجیل سے افلاک کے معنی اور اجیل میں لکھا ہے۔بھی ان معنوں کا ثبوت ملتا ہے۔متی باب ۵ آیت ۱۸ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ۲۸ ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو ،، اس آیت میں آسمان و زمین سے مراد موسوی نظام ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تک موسوی سلسلہ کا زمانہ ہے توریت کی تعلیم کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ہاں جب یہ سلسلہ مٹ جائے گا تب بیشک یہ تعلیم قابلِ عمل نہ رہے گی اور حقیقت بھی یہ ہے کہ قرآن کریم نے آ کر توریت کی تعلیم کو منسوخ کر دیا اور توریت میں بھی لکھا ہے کہ موسیٰ کے بعد ایک اور شریعت آنے والی ہے۔چنانچہ استثنا باب ۱۸ آیت ۱۹۱۸ میں لکھا ہے۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے مجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سُنے گا تو میں اُس کا حساب اُس سے لوں گا ،۲۹ ان آیات سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں:۔(۱) یہودیوں کے لئے ایک اور نبی مبعوث ہونے والا ہے کیونکہ لکھا ہے۔”میں ان کے لئے ایک نبی مبعوث کروں گا۔“