انوارالعلوم (جلد 15) — Page 507
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں کوئی جتھا نہیں رکھتے تھے۔لیکن حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں جتھے رکھتے تھے۔چنانچہ بنو امیہ حضرت عثمان کے حق میں تھے اور بنو عباس حضرت علیؓ کے حق میں اور ان دونوں کو عرب میں بڑی قوت حاصل تھی۔جب خلافت میں تنزل واقع ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت میں سے ایمان اور عمل صالح جاتا رہا تو حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد بنو امیہ نے مسلمانوں پر تسلط جمالیا اور یہ وہ لوگ تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں حضرت علی کی تو مذمت کی جاتی رہی مگر حضرت عثمان کی خوبیاں بیان ہوتی رہیں۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے مداح اور ان کی خوبیوں کا ذکر کرنے والے اس دور میں بہت ہی کم تھے۔اس کے بعد حالات میں پھر تغیر پیدا ہوا اور بنو امیہ کی جگہ بنو عباس نے قبضہ کر لیا اور یہ وہ لوگ تھے جو اہل بیت سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کا تمام زور حضرت علیؓ کی تعریف اور آپ کی خوبیاں بیان کرنے پر صرف ہونے لگ گیا اور کہا جانے لگا کہ عثمان بہت بُرا تھا۔غرض بنو امیہ تو یہ کہتے رہے کہ علی بہت بُرا تھا اور بنو عباس یہ کہتے رہے کہ عثمان بہت بُرا تھا اور اس طرح کئی سو سال تک مسلمانوں کا ایک حصہ حضرت عثمان کے اوصاف شمار کرتا رہا اور ایک حصہ حضرت علیؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا مگر باوجود اس کے کہ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومتوں کے یہ دو دور آئے اور دونوں ایسے تھے کہ ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے تعلق رکھنے والے لوگ کوئی نہ تھے پھر بھی دنیا میں جو عزت اور جو رتبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے فتووں اور ارشادات کو حاصل ہے وہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔گو اِن سے اُتر کر انہیں بھی حاصل ہے اور یہ ثبوت ہے ويمكنن لهُمْ دِينَهُمُ الَّذِی ارتضى لَهُمْ کا کہ خدا نے ان کے دین کو قائم کیا اور اُن کی عزت کولوگوں کے قلوب میں جاگزیں کیا۔چنانچہ آج کسی مسلمان سے پوچھ لو کہ اس کے دل میں خلفاء میں سے سب سے زیادہ کس کی عزت ہے تو وہ پہلے حضرت ابو بکر کا نام لے گا پھر حضرت عمر کا نام لے گا پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علیؓ کا نام لے گا حالانکہ کئی صدیاں ایسی گذری ہیں جن میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا اور اتنے لمبے وقفہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام دنیا سے مٹ جایا کرتے ہیں لیکن خدا نے اُن کے نام کو قائم رکھا اور اُن کے فتووں اور ارشادات کو وہ مقام دیا جو حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے فتووں اور ارشادات کو بھی حاصل