انوارالعلوم (جلد 15) — Page 497
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اقامت صلوۃ صحیح معنوں میں پس ان آیات میں اللہ تعالی نے مسلمانوں سے پہلے خلافت کا وعدہ کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ ان کا خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی فرض ہوگا کہ وہ نماز میں قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اقامتِ صلوۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی اور زکوۃ کی ادائیگی بھی خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔چنانچہ دیکھ لو، رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں زکوۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔پھر جب آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم اللہ کیلئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کیلئے نہیں مگر حضرت ابو بکڑ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا اور فرمایا کہ اگر یہ اونٹ کے گھٹے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک ان سے اسی رنگ میں زکوۃ وصول نہ کر لوں جس رنگ میں وہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئے اور زکوۃ کا نظام پھر جاری ہو گیا جو بعد کے خلفاء کے زمانہ میں بھی جاری رہا۔مگر جب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوۃ کی وصولی کا بھی کوئی نظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوۃ کے حکم پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ جیسا کہ اسلامی تعلیم کا منشاء ہے امراء سے لی جاتی اور ایک نظام کے ماتحت غرباء کی ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔اب ایسا وہیں ہو سکتا ہے جہاں ایک باقاعدہ نظام ہو۔اکیلا آدمی اگر چند غرباء میں زکوۃ کا روپیہ تقسیم بھی کر دے تو اس کے وہ شاندار نتائج کہاں نکل سکتے جو اس صورت میں نکل سکتے ہیں جب زکوۃ کے تمام روپیہ کو جماعتی رنگ میں غرباء کی بہبودی اور ان کی ترقی کے کاموں پر خرچ کیا جائے۔پس زکوۃ کا نظام بالطبع خلافت کا مقتضی ہے۔اسی طرح اقامتِ صلواۃ بھی بغیر اس کے نہیں ہو سکتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔اب اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو بھلا چھوٹے چھوٹے دیہات کی جماعتوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ چین اور جاپان میں کیا ہو رہا ہے اور اسلام ان سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر ایک مرکز ہو گا اور ایک خلیفہ ہو گا جو تمام مسلمانوں کے نزدیک واجب الاطاعت ہوگا تو اسے تمام اکناف عالم سے رپورٹیں پہنچتی رہیں