انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 430

انوار العلوم جلد ۱۵ الله خلافت راشده فیصلہ کرنا چاہئے ، پھر ان مختلف انسانی افعال کی وہ جسمانی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے جو عام طور پر قوم کے سپرد ہوتی ہیں۔مثلا قتل کی کیا سزا ہے یا چوری کی کیا سزا ہے؟ اسی طرح وہ وراثت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے اور حکومت کو ٹیکس کا جو حق حاصل ہے اس پر بھی پابندیاں لگاتا ہے اور ٹیکسوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔حکومت کو اِن ٹیکسوں کے خرچ کرنے کے متعلق جو اختیارات حاصل ہیں ان کو بھی بیان کرتا ہے، فوجوں کے متعلق قواعد بھی بیان کرتا ہے۔معاہدات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ دو قو میں جب آپس میں کوئی معاہدہ کرنا چاہئیں تو رکن اصول پر کریں؟ اسی طرح بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، مزدور اور ملازم رکھنے والوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، سڑکوں وغیرہ کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔غرض وہ تمام امور جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کو اسلام بیان کرتا ہے۔پس اسلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے حکومت کو آزاد چھوڑ دیا ہے بلکہ جیسا کہ ثابت ہے اس نے حکومت کے ہر شعبے پر سیر کن بحث کی ہے۔پس جو شخص اسلام کو مانتا ہے اور اس میں حکومت کے متعلق تمام احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہوا دیکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ بلکہ اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کے وہ افعال جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قابلِ تقلید ہیں جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے متعلق احکام کیونکہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ نماز پڑھو ، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ روزے رکھو۔جس خدا نے یہ کہا ہے کہ حج کرو۔جس خدا نے یہ کہا ہے کہ زکوۃ دواسی خدا نے امور سیاست اور تنظیم ملکی کے متعلق بھی احکام بیان کئے ہیں۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر قوم اور ہر ملک آزاد ہے کہ اپنے لئے ایک مناسب طریق ایجاد کر لے اور جس طرح چاہے رہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے سب شعبوں میں اسلامی احکام کی پابندی کرنی صلى الله پڑے گی کیونکہ اگر رسول کریم ﷺ نے یہ اپنی طرف سے کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ لوگ اس بارہ میں آزاد ہیں۔مگر جب ہم کہتے ہیں کہ یہ احکام قرآن مجید میں آئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رسول کریم ﷺ نے ان کو بیان کیا تو معلوم ہوا کہ یہ رسول کریم ﷺ کا ذاتی فعل نہیں تھا اور جبکہ قرآن نے ان تمام امور کو بیان کر دیا ہے جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے حکومت سے تعلق رکھنے والی تو ساری باتیں بیان کر دی ہوں مگر یہ نہ بتایا ہو کہ حکومت کو چلایا کس طرح جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص مکان بنانے کیلئے لکڑیاں جمع کرے، کھڑکیاں اور دروازے بنوائے، اینٹوں اور چونے وغیرہ کا ڈھیر لگا دے مگر