انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 410

انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح کے خلفاء اس کام کے کرنے والے تھے جو آپ کے اپنے کام تھے یعنی يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتِهِ ويُزَكِّيهِمْ وَهُمُ والحكمة " قرآن کریم میں رسول کریم کے چار کام بیان کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشان بیان کرتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ، ان کو کتاب پڑھاتا اور حکمت سکھاتا ہے۔کتاب کے معنے کتاب اور تحریر کے بھی ہیں اور حکمت کے معنی سائنس کے بھی اور قرآن کریم کے حقائق و معارف اور مسائل فقہ کے بھی ہیں۔پھر میں نے خیال کیا کہ خلیفہ کا کام استحکام جماعت بھی ہے اس لئے اس روپیہ سے یہ کام بھی کرنا چاہئے۔بے شک بعض کام جماعت کر بھی رہی ہے مگر یہ چونکہ نئی چیز ہے اس سے نئے کام ہونے چاہئیں اور اس پر غور کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ ابھی کچھ کام اس سلسلہ میں ایسے ہیں کہ جو نہیں ہو رہے۔مثلاً یہ نہیں ہو رہا کہ غیر مسلموں کے آگے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جائے کہ وہ اِس طرف متوجہ ہوں چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ یہ سلسلہ پہلے ہندوستان میں اور پھر بیرونِ ممالک میں شروع کیا جائے اور اس غرض سے ایک، چار یا آٹھ صفحہ کا ٹریکٹ لکھا جائے جسے لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چھپوا کر شائع کیا جائے۔اس وقت تک ان زبانوں میں ہمارا تبلیغی لٹریچر کافی تعداد میں شائع نہیں ہوا۔اُردو کے بعد میرا خیال ہے سب سے زیادہ اس ٹریکٹ کی اشاعت ہندی میں ہونی چاہئے۔ابھی تک یہ سکیم میں نے مکمل نہیں کی۔فوری طور پر اس کا خا کہ ہی میرے ذہن میں آیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم ایک لاکھ اشتہار یا ہینڈ بل وغیرہ اذان اور نماز کی حقیقت اور فضیلت پر شائع کئے جائیں تا ہندوؤں کو سمجھایا جا سکے کہ جس وقت آپ لوگ مساجد کے سامنے سے باجہ بجاتے ہوئے گزرتے ہیں تو مسلمان یہ کر رہے ہوتے ہیں۔یہ بات معقول رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے کہ مسلمان تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ اُس وقت ڈھول کے ساتھ ڈم ڈم کا شور کرتے ہیں۔آپ سوچیں کہ کیا یہ وقت اس طرح شور کرنے کیلئے مناسب ہوتا ہے جب یہ آواز بلند ہو رہی ہو کہ خدا تعالیٰ سب سے بڑا ہے تو اُس وقت چُپ ہو جانا چاہئے یا ڈھول اور باجہ کے ساتھ شور مچانا چاہئے تو ان کو ضرور سمجھ آ جائے گی کہ ان کی ضد بے جا ہے اور اس طرح اس سے ہند و مسلمانوں میں صلح واتحاد کا دروازہ بھی کھل جائے گا۔تعلیم یافتہ غیر مسلم اب بھی ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اسی طرح میں نے جلسہ ہائے سیرت کی جو تحریک شروع کی ہوئی ہے اسے بھی وسعت دینی چاہئے یہ بھی بہت مفید تحریک ہے اور سیاسی لیڈر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔بابو بین چندر پال