انوارالعلوم (جلد 15) — Page 408
انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح ہم روشن کرنا چاہیں تو کوئی اندھیرا رہ نہیں سکتا اور اس طرح اس تقریب کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ یہ نظارہ دیکھ کر دُور ہو گیا ور نہ مجھے تو شرم آتی ہے کہ میری طرف یہ تقریب منسوب ہو مگر ہمارے سب کام اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اس کے ذریعہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی ہیں اس لئے اس کے منانے میں کوئی حرج نہیں یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں اگر وہ نہ کرتا تو نہ مجھ میں طاقت تھی اور نہ آپ میں، نہ میرے علم نے کوئی کام کیا اور نہ آپ کی قربانی نے۔جو کچھ ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوا اور ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور نشان دکھایا۔دنیا نے چاہا کہ ہمیں مٹا دیں مگر خدا تعالیٰ نے نہ مٹایا اور یہ نظارہ دیکھ کر میرے دل میں جو انقباض تھا وہ سب ڈور ہو گیا۔اس لئے جن دوستوں نے اس تقریب پر اپنی انجمنوں کی طرف سے ایڈریس پڑھے ہیں۔مثلاً چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب، پروفیسر عطاء الرحمن صاحب، حکیم خلیل احمد صاحب، چوہدری ابوالہاشم خان صاحب ، حاجی جنود اللہ صاحب اسی طرح دمشق ، جاوا، سماٹرا اور علی گڑھ اور بعض دوسری جگہوں کے دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے پھر بعض ہندو صاحبان نے بھی اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا ہے میں ان سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور ان سب كوجَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔کہتا ہوں اور یہ ایسی دُعا ہے کہ جس میں سارے ہی شکریے آ جاتے ہیں۔پس میں ان دوستوں کا اور اِن کے ذریعہ ان کی تمام جماعتوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور جَزَاكُمُ الله اَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ میرے زندگی کے اور جو دن باقی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دین کی خدمت ، اسلام کی تائید اور اس کے غلبہ اور مضبوطی کے لئے صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا جب اس کے حضور پیش ہونے کا موقع ملے تو شرمندہ نہ ہوں اور کہہ سکوں کہ تو نے جو خدمت میرے سپرد کی تھی تیری ہی توفیق سے میں نے اسے ادا کر دیا۔پھر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنے فضل نازل کرے اور نیک اعمال کی توفیق عطاء فرمائے اور ہم میں سے جس کے دل میں بھی کوئی کمزوری ہوا سے دُور کرے، اخلاص میں مضبوط کرے اور ہماری زندگیوں کو اپنے لئے وقف کر دے۔ہماری زندگیوں کو بھی خوشگوار بنائے اور ہماری موتوں کو بھی تاجب جنتی سنہیں تو خوش ہوں کہ اور پاکیزہ روحیں ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہی ہیں۔اس کے بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور کہا کہ پروگرام میں اس وقت میری کوئی تقریر نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم آمین کے جو ابھی پڑھی گئی ہے